ملتان (سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان میں جاری انتظامی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ۔ عارضی اور غیر قانونی طور پر وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں جن میں اختیارات کا ناجائز استعمال، انتقامی کارروائیاں، من پسند انکوائریاں، جعلی تجربہ اور تاریخِ پیدائش میں مبینہ رد و بدل شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے خود ہی یونیورسٹی کے کمپیوٹرز کی خریداری کی منظوری دی اور بعد ازاں اسی معاملے پر قائم مقام خزانچی ریحان قادر کے خلاف PEEDA ایکٹ کے تحت انکوائری شروع کر دی۔ اس کارروائی کو یونیورسٹی حلقے واضح طور پر انتقامی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ 43 ویں سینڈیکیٹ اجلاس میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی ہی مخالف امیدوار پروفیسر ڈاکٹر قمر رباب کے خلاف PEEDA انکوائری شروع کرنے کی منظوری دی۔ یہ اجلاس خود بھی غیر قانونی تھا کیونکہ اُس وقت وائس چانسلر چھٹی پر تھیں۔ اجلاس میں مبینہ طور پر وائس چانسلر کے زیرِ قبضہ’’غیر مختص گھر‘‘کے حوالے سے بھی انکوائری کا حکم دیا گیا حالانکہ وہ رہائش وائس چانسلر کے لیے مخصوص ہی نہیں تھی۔ 44 ویں سینڈیکیٹ اجلاس میں بھی ڈاکٹر پراچہ نے متعدد اساتذہ و افسران کے خلاف PEEDA کارروائیاں شروع کیں۔ پہلی انکوائری ڈپٹی رجسٹرار لیگل محمد آصف کے خلاف شروع کی گئی ۔اس کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر شوکت ملک (سابق ڈین، بہاالدین زکریا یونیورسٹی) کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی جبکہ اراکین میں ڈاکٹر سارہ مصدق (کیمسٹری) اور ڈاکٹر ملیکہ رانی (فزکس) شامل ہیں۔اس کمیٹی کو محمد آصف علی کے خلاف درج ذیل الزامات پر کارروائی کا حکم دیا گیا: 1۔ بھرتی کی فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ناجائز توسیع، 2۔بھرتی کے عمل میں شفافیت کو نقصان پہنچانا 3،۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی، 4۔ سرکاری عہدے کا غلط استعمال، دوسری انکوائری بھی ڈپٹی رجسٹرار لیگل محمد آصف علی کے خلاف شروع کی گئی اور اس کمیٹی میں ڈاکٹر حنا علی (اکنامکس) کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ڈاکٹر مریم زین اور ڈاکٹر صادق حسین شامل تھے۔ان کے ذمے درج ذیل الزامات کی انکوائری لگائی گئی: ان الزامات میں یونیورسٹی کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والے عادی درخواست گزار کے ساتھ تعلقات ، عہدے کے فرائض کی انجام دہی میں مفادات کا ٹکراؤ، یونیورسٹی کی خفیہ معلومات لیک کرنا، قانونی مشیروں کو بلاوجہ مقدمات میں ملوث کر کے یونیورسٹی کے مالی نقصان کا سبب بننا۔ محمد
آصف علی کے خلاف تیسری انکوائری بھی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں ایم این ایس ایگری کلچر یونیورسٹی کے خزانچی محمد رفیق فاروقی کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ڈاکٹر رانا عامر رضا اور ڈاکٹر عدیلہ سعید شامل تھیں۔یہ کمیٹی مبینہ طور پر درج ذیل معاملات پر کارروائی کر رہی ہے۔ 1۔ یونیورسٹی کے کور یئر سروس اکاؤنٹ کا غلط استعمال، 2۔ وائس چانسلر کے خلاف جھوٹے مقدمات دائر کر کے ادارے کی ساکھ خراب کرنا، 3۔ سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ منصور کے خلاف نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا، 4۔ سرکاری اختیارات کا غلط استعمال شامل ہے۔اطلاعات کے مطابق موجودہ غیر قانونی قائم مقام وائس چانسلر نے حال ہی میں تعینات رجسٹرار ڈاکٹر ثمینہ اختر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈاکٹر مریم زین بائیو ٹیکنالوجی اور ڈاکٹر حرا مقدس (زوالوجی ڈیپارٹمنٹ) کے خلاف انکوائری شروع کریں کیونکہ انہوں نے’’ٹیچر انچارج‘‘ کا چارج سنبھالنے سے انکار کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر پراچہ نے ماضی میں مختلف رجسٹرارز کو ٹیچرز کے خلاف استعمال کیا ۔ کبھی ڈاکٹر میمونہ کو ریحان قادر کے خلاف، کبھی ڈاکٹر ملیکہ رانی کو ڈاکٹر قمر رباب اور محمد آصف علی کے خلاف اور اب ڈاکٹر ثمینہ اختر کو ڈاکٹر مریم زین اور ڈاکٹر حرا مقدس کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔جبکہ گورنر پنجاب اور HED کی روزمرہ کے امور کے لیے تعینات کردہ عارضی وائس چانسلر کی پیڈا انکوائریوں بارے لائن لگانا اور ٹیچرز اور سٹاف کے مستقبل سے کھیلنے کی آزادی دینا اور غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا یونیورسٹی میں اس بات کا پرچار کرنا کہ چانسلر ، ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں، اس تعلیمی نظام اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور چانسلر آفس پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور افسران کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) کی خاموشی ناقابلِ فہم ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر تین مختلف تاریخِ پیدائش رکھنے، سرکاری نوکری کے بعد تاریخِ پیدائش میں تبدیلی اور جعلی نجی کالج کا تجربہ جمع کرانے کے سنگین الزامات ہیںجو کسی بھی سرکاری ملازم کے لیے غیر قانونی ہیں۔ اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ HED فوری طور پر غیر جانبدار انکوائری شروع کرے تاکہ خواتین یونیورسٹی ملتان میں انصاف، شفافیت اور قانون کی عملداری بحال ہو سکے۔







