ملتان پولیس غیر سنجیدہ، شکایات ایک سے دوسرے تھانہ بھجوانا معمول، متاثرین دربدر

ملتان(وقائع نگار)پولیس کی پھرتیاں، درخواست پر کارروائی کرنے کے بجائے درخواست کو دوسرے تھانے بھجوانا ایک عام “پاسداری” کا عمل ہے جس کا مقصد مسئلے کو ٹالنا یا ذمہ داری سے بچنا ہوتا ہے ملزم کو طلب نہ کرنا یہ پولیس کی غیر سنجیدگی یا ممکنہ طور پر ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہےخواتین کے تحفظ کے وعدے اور زمینی حقائق میں بڑا فرٹ، پولیس کا نظام متاثرہ خاتون کو انصاف نہ دلاسکا وزیراعلیٰ پنجاب کے خواتین اور بچے میری ریڈ لائن” کے منشور اور زمینی سطح پر پولیس کے رویے میں واضح تضاد دیکھنے میں آیا ہے، اعلیٰ حکام خاموش اور بےبس جہاں ایک متاثرہ خاتون کو انصاف کے حصول میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا ہے سمیجہ آباد کی رہائشی انیلہ یاسمین کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر بدنام زمانہ پراپرٹی ڈیلر فیاض احمد (رہائشی 20 فٹی گلشن کالونی) نے شادی اور پلاٹ کے جھانسے دے کر ان کی عمر بھر کی جمع پونجی کے اڑھائی لاکھ روپے ہڑپ کر ل لیئے تفصیلات کے مطابق بدنام زمانہ پراپرٹی ڈیلر فیاض احمد نے پہلے شادی کا بعد ازاں پلاٹ لے کر دینے کا جھانسہ دے کر اڑھائی لاکھ روپے کی رقم حاصل کی انصاف کی تلاش میں صحرا گردی متاثرہ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کیا اے ایس پی کو درخواستیں دیں۔ سی سی ڈی سے رجوع کیا لیکن کوئی جواب نہ ملا تھانہ نیو ملتان امیں شکایات درج کرائیں تاہم ہر جگہ ان کی درخواستیں فائلوں کی نذر ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا، “تھانے کے چکر لگا لگا کر میں بالکل تھک چکی ہوں۔ ہر بار مجھے نئے بہانے سننے کو ملتے ہیں تھانے کے اہلکاروں نے ملزم کو طلب کرنے کی بجائے انہیں ہی پریشان کیا تھانہ نیو ملتان کےایس ایچ او نے رات گئے تھانے آنے کا کہا تھانہ سیتل ماڑی ڈی ایس پی کے ریڈر نے پہلے ان کا مذاق اڑایاتمام راستے بند پا کر متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب پورٹل پر درخواست جمع کرائی ہے، جس میں واقعہ کا سخت نوٹس لینے کی استدعا اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور فراڈ کی گئی رقم کی واپسی کامطالبہ کیاگیا، اس واقعے نے نہ صرف پولیس کے اندر موجود خامیوں کو واضح کیا ہے بلکہ خواتین کے تحفظ کے سرکاری دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج کو بھی نمایاں کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا وزیراعلیٰ پنجاب پورٹل پر کی گئی درخواست متاثرہ خاتون کے لیے انصاف کا ذریعہ بن پائے گی یا یہ بھی فائلوں کا حصہ بن کر رہ جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں