ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر ہسپتال کے زیر مرمت کارڈیالوجی وارڈ میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی ایک لڑکی کے سنگین نوعیت کے جرم کو انتظامیہ نے چھپا لیا ہے تا ہم اس واقعے کی بازگشت پورے نشتر ہسپتال میں پھیلی ہوئی ہے اور راتوں رات نامکمل وارڈ نمبر ون کو چند بیڈ رکھ کر ثبوت مٹانے کے لیے آباد ظاہر کر دیا گیا۔ بتایا گیا کہ کئی ماہ پہلے کارڈیالوجی وارڈ نمبر ایک کو خالی کر دیا گیا تھا اور اس وارڈ کو وارڈ نمبر 26 میں شفٹ کرنے کے بعد یہاں مرمت کا کام شروع کر دیا گیا جو تاحال جاری ہے اور ابھی بہت سا کام رہتا ہے۔ دروازے لگنے ہیں، لائٹنگ اور ایئر کنڈیشنگ کا کام ابھی باقی ہے مگر لڑکی لاش ملنے کے واقعہ کے بعد جب اس کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا تو زیادتی کے بعد قتل کا انکشاف ہوا جسے خاموشی سے ورثا کے حوالے کر دیا گیا اور راتوں رات اس غیر آباد وارڈ نمبر ایک کو چند بیڈ اور دیگر معمولی سامان رکھ کر آباد کر دیا گیا اور تمام ثبوت مٹا دیئے گئے۔ نشتر کے تین ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور انتظامی سٹاف کے ایک ممبر نے اس واقعہ کی روزنامہ قوم کو مکمل تصدیق کی ہے اور سب نے اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ انتظامیہ سے چھپا رہی ہے جبکہ مقتولہ کے ورثاسے ڈیل کر لی گئی ہے تاہم اندر خانے اس پر انکوائری چل رہی ہے۔







