
رینکنگ کے مطابق تیار کردہ تقابلی جائزہ
ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی ادارہ (QS (Quacquarelli Symonds نے اپنی تازہ ترین ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 جاری کر دی ہےجس میں پاکستانی جامعات نے Employability یعنی فارغ التحصیل طلبہ کے روزگار کے مواقعاور عالمی اداروں میں ان کی شہرت کے حوالے سے قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی جامعات کے Employer Reputation Scores اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ ان کے طلبہ بین الاقوامی سطح پر مسابقتی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس زمرے میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) 98اعشاریہ8 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) نے 98اعشاریہ7 سکور کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور نے 94اعشاریہ2 سکور کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی جو اس کی تاریخی تعلیمی خدمات کا تسلسل ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) لاہور 90اعشاریہ7 اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد 89اعشاریہ5 کے ساتھ بالترتیب چوتھی اور پانچویں پوزیشن پر رہیں۔اس فہرست میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کراچی نے 86، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے 81اعشاریہ4 ،یونیورسٹی آف لاہور نے 66اعشاریہ9،کراچی یونیورسٹی نے 59اعشاریہ6 اور یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب نے 56اعشاریہ6 سکور حاصل کیے۔ دیگر نمایاں اداروں میں یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد (49اعشاریہ9)، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (47اعشاریہ9)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (47اعشاریہ5) اور یونیورسٹی آف پشاور (44.4) شامل ہیں۔اسی طرح یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) اور آغا خان یونیورسٹی نے 38اعشاریہ4، ایئر یونیورسٹی نے 36، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی نے 33اعشاریہ 7،بہاالدین زکریا یونیورسٹی نے 30اعشاریہ8، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد نے28اعشاریہ 3 جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے 26اعشاریہ2 سکور حاصل کیا۔ماہرین کے مطابق Employability کا مطلب یہ ہے کہ کسی یونیورسٹی کے طلبہ گریجویشن کے بعد روزگار کے مواقع کتنی آسانی سے حاصل کرتے ہیں جب کہ Employer Reputation سے مراد یہ ہے کہ دنیا بھر کے آجرین ان جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ کو کس قدر قابل اور قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی جامعات کی اس کامیابی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری آرہی ہےاور جامعات اب بین الاقوامی اداروں کے معیار سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق LUMS، NUST اور پنجاب یونیورسٹی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شناخت پاکستان کے تعلیمی شعبے کے لیے خوش آئند علامت ہے۔یہ رینکنگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی تعلیمی ادارے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی اپنے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے اعتماد، قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا استعارہ بن چکے ہیں۔







