جنوبی پنجاب سمیت مختلف ٹول پلازوں سے اربوں کی لوٹ مار، وزیراعظم انکوائری شروع

ملتان(واثق رؤف)نیشنل ہائی ویز میں بغیر حساب کتاب اربوں روپے لوٹنے کا انکشاف ہوا ہے۔لوٹ مار ساؤتھ پنجاب (جنوبی پنجاب)کے4،خیبرپختونخوا اور نارتھ پنجاب(شمالی پنجاب)کے ایک ایک ٹال پلازہ پر سےٹیکس کلیکشن مد میں حاصل شدہ آمدن میں کی گئی ہے۔غبن اور لوٹ مار کےمعاملات سامنےآنے پر وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر لوٹی گئی رقم اور ذمہ داران کے تعین کے لئےسابق فیڈرل سیکرٹری مشتاق احمد کی سربراہی میں5رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔کمیٹی کےدیگرممبران میں بریگیڈئرریٹائرڈ مظفرعلی رانجھا،جواد پاؤل سیکرٹری کامرس،کامران علی افضل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن سمیت ایک نمائندہ انٹیلی جنس بیور ڈویژن سے شامل ہے۔اربوں روپے ان ٹال پلازوں سے لوٹ گئے جنھیں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی ہیڈ کوارٹر کےذمہ داران کی طرف مقرر کردہ نجی نمائندے چلا رہے تھے جبکہ این ایچ اےکے متعلقہ آفیسرز ان سے بینک میں جمع کروائی گئی رقم کی رسیدبھی وصول کررہےتھے۔چیئرمین نیشنل ہائی ویز کو عہدہ سے ہٹانے کی وجہ بھی ٹال پلازوں سے حاصل شدہ آمدن میں کی گئی لوٹ مار کو قرار دیا جارہا ہے۔فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو تین ہفتوں میں غیرجانبدارانہ اور شفاف رپورٹ تیار کرکےوزیراعظم کوجمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ملک بھر کے مزید درجنوں ٹال پلازوں کی آمدن میں لوٹ مار کئے جانے کے معاملات بھی سامنے آسکتے ہیں۔جلد ہی سندھ،بلوچستان ودیگر حصوں کے ٹال پلازوں کی لسٹ بھی جاری ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق رواں سال مارچ میں ملک بھر کے ٹال پلازوں سے وہیکلز ٹیکس کلیکشن کے لئے ٹینڈرنگ کھولے گئے تھے۔بتایاجاتا ہے کہ ٹال پلازوں سے ٹیکس کلیکشن کے ٹینڈر کا عمل شروع کرنے سے قبل ان پلازوں سے روزانہ کی بنیاد پر گزرنے والی ٹریفک اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کی ایک ایسی رپورٹ مرتب کی گئی تھی جو بولی دینے کی بنیاد یا ابتدائی ریٹ ثابت ہو سکے۔ذرائع کے مطابق مرتب کی گئی رپورٹ میں کسی ٹال پلازہ سے روزانہ گزرنے والی ٹریفک سےٹیکس کلیکشن کاتخمینہ15لاکھ تو کسی سے20لاکھ لگایاگیا۔این ایچ اے ذرائع کےمطابق ان پلازوں کی اوپن نیلامی کے لئےلگائے گئےتخمینہ کو بولی کانقطہ آغاز یا ریٹ بنایاجاناچاہیے تھا تاہم جانتے بوجھتے بولی دہندگان کو بولی دینے کےلئے ٹریفک سروےرپورٹ سےکئی گنا زائد ریٹ دیاگیا۔جس کےبعد بولی دہندگان نے دئیےگئےریٹ سےبھی بڑھ چڑھ کرریٹ دےدیا۔تاہم جیسے ہی کامیاب بولی دہندگان نےٹیکس کلیکشن کاعمل شروع کیا تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ وہ پھنس گئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر انہیں لاکھوں روپےاضافی این ایچ اے کو ادائیگی کاسامنا ہے۔جس پر کامیاب بولی دہندگان نے مجموعی بولی کی2سے3فیصدکال ڈیپازٹ رقم چھوڑ کر ٹھیکہ کو خیر باد کہہ دیا۔اتنے زیادہ ریٹ کے بعد مزید کوئی ٹھیکیدار بھی ٹال ٹیکس کلیکشن کا ٹھیکہ حاصل کرنے کو تیار نہیں ہوا۔جس کے بعد این ایچ اے اتھارٹی کے ذمہ داران کی طرف سے این ایچ اے کے متعلقہ آفیسرز کو ٹال پلازوں کا انتظام اور ٹیکس کلیکشن سنبھالنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ساتھ میں نجی ٹیم بھی بھجوا دی گئی کہ یہی ٹیم ٹال پلازوں سے ٹیکس ریونیو اکٹھا کرے گی۔ نجی ٹیم معمولی نوعیت کےٹیکس ریونیو کی کلیکشن بینک میں جمع کروا کر رسید متعلقہ ریونیو آفیسر کو جمع کروا دیتی تھی۔یہاں سے اربوں روپے کی لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوا جو چیئرمین این ایچ اے کو ان کے عہدے سے فارغ کروانے کا بھی سبب بن گیا۔بتایا جاتا ہے کہ وہ ٹال پلازہ جن کے ٹریفک سروے میں روزانہ کی حاصل شدہ آمدن کا تخمینہ15سے20لاکھ روپے لگایا گیا تھا اور جن کی بولی کے لئے ریٹ بھی کئی گنا زائد دیا گیا تھا جس کی وجہ سے بولی دہندگان ٹھیکیداروں کو ابتدا میں ہی اپنی کال ڈ یپازٹ کی رقم چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ان ہی ٹال پلازوں کی ٹیکس کلیکشن جب این ایچ اے کے متعلقہ آفیسرز اور ہیڈ کوارٹر نجی ٹیم کے پاس آئی تو وہ ٹریفک سروے رپورٹ میں بتائی گئی آمدن15سے20لاکھ روپے روزانہ سے کم ہو کر5سے7لاکھ روپے روزانہ تک محدود ہوگئی۔جبکہ اس دوران این ایچ اے نے دو سےتین بار ٹال ٹیکس میں اضافہ بھی کیاتھا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان نےجن ٹال پلازوں میں غبن کے تعین کےلئےفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہےان میں جنوبی پنجاب سےغازی گھاٹ،قطب پور،راجن پور،ڈیرہ غازی خان ون جبکہ کے پی کے میں کوہاٹ ٹنل اور شمالی پنجاب میں پتوکی ٹال پلازہ شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ،بلوچستان اور دیگر حصوں کے ٹال پلازوں کے ناموں کی لسٹ بھی سامنے آنے کا امکان ہے جن سے ٹال ٹیکس کلیکشن کی مد میں لوٹ مار کی گئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں