بہاولپور نان کسٹم گاڑیوں کی بڑی منڈی، ایکسائز اہلکاروں کی ملی بھگت، کھلے عام خرید و فروخت

بہاولپور (سپیشل رپورٹر) بہاولپور کی سڑکوں پر نان کسٹم (غیر قانونی واردات شدہ) گاڑیوں کی بھرمار سنگین مسئلہ بن گئی ہے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایکسائز اہلکار روزانہ فرضی ناکہ بندیوں کے بہانے عارضی چیکنگ کرتے ہیںمگر حقیقت میں نان کسٹم گاڑیاں ناکہ بندی کے دوران روکی نہیں جاتیں اور اہلکار اپنی ڈیوٹی ختم کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں غیر قانونی گاڑیاں شہر کی مرکزی و ثانوی شاہراہوں پر کھل کر دندناتی پھرتی ہیں اور ان کی خرید و فروخت ایک منظم نیٹ ورک کے تحت ہو رہی ہے مقامی افراد کا الزام ہے کہ یہ منظم گروہ وقتاً فوقتاً ایکسائز اور متعلقہ حکام کو خوش کرنے کے لیے سطحی کارروائیاں کرواتا ہے تاکہ صورتِ حال معمولی نظر آئے، مگر درحقیقت یہ نیٹ ورک بڑے پیمانے پر گاڑیاں مارکیٹ میں فروخت کرتا رہتا ہے۔ متاثرہ شہریوں کے مطابق بعض معاملات میں ایکسائز اہلکار فرضی کاغذات بنا کر ایسی گاڑیوں کو قانونی شکل دینے میں ملوث دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ گاڑیاں جن کے پاس کوئی درست دستاویزات نہیں ہوتیں انہیں بچانے کے لیے راستے بتائے جاتے ہیں۔ بعض عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ اس کام کے عوض متعینہ نذرانے یا رقم لی جاتی ہے جس سے یہ کاروبار مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ایک مقامی ٹرانسپورٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ مسئلہ روزمرہ کی حقیقت ہے اور پورے شہر میں یہ گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جب شکایت کی جاتی ہے تو عملہ صرف دکھاوے کے لیے چیکنگ کرتا ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے کہا کہ کئی بار ایکسائز اہلکاروں کو ان گاڑیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا، مگر کوئی مستقل کارروائی نظر نہیں آئی حکومت اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی خاموشی کے باعث علاقائی سطح پر اس سنگین معاملے پر کوئی باوضوح وضاحت یا کارروائی سامنے نہیں آئی ۔شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ متعلقہ افسران شفاف تحقیقات کروائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بہاولپور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ نان کسٹم گاڑیاں نہ صرف ملکی محصولات کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ حفاظتی اور قانونی تقاضوں میں بھی کوتاہیوں کا باعث بنتی ہیں ان گاڑیوں کی رجسٹریشن، انشورنس اور تکنیکی معائنہ اکثر غیر یقینی ہوتا ہے، جو سڑکوں پر عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں