سول ملٹری ٹرائل کیس: غیر متعلقہ شخص پر فوجی قوانین کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ آئینی بینچ کا سوال

ستائیسویں آئینی ترمیم سے عدلیہ کا نیا دور شروع؟ سپریم کورٹ کے مستقبل پر فیصلہ کن ہفتہ

اسلام آباد: پارلیمان میں پیش کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم نے موجودہ ہفتے کو سپریم کورٹ کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن بنا دیا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق، سپریم کورٹ کو وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت کر دیا جائے گا، جبکہ پہلے چیف جسٹس کی تقرری حکومت کرے گی۔
ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کو نئی وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کا پابند بنایا جائے گا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہفتہ موجودہ سپریم کورٹ کی حیثیت میں آخری ہفتہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مجوزہ بل میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے عہدے سے “پاکستان” کا لفظ ہٹانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت رواں ہفتے آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی 12 نومبر کو ترکی کے دورے پر روانہ ہوں گے، ان کی غیر موجودگی میں جسٹس سید منظور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے۔
اگر اس دوران 27ویں ترمیم منظور ہو گئی، تو حکومت کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی سپریم کورٹ جج کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کر سکے۔
آج تمام نگاہیں سپریم کورٹ کے ججز پر مرکوز ہیں کہ وہ مجوزہ ترمیم کے بعد کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ یہ ترمیم پیش ہونے کے بعد ان کا پہلا ورکنگ ڈے ہے۔
وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ججز کو متحد ہونا چاہیے، کیونکہ یہ آئین کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق، چیف جسٹس آفریدی کو ترمیم منظور ہونے سے پہلے فل کورٹ اجلاس طلب کرنا چاہیے۔
دوسری جانب حکومتی اتحاد کے قانونی ماہرین اپنی قیادت کو قائل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں کہ ایسی عدالت کی ساکھ کس قدر متاثر ہو سکتی ہے جس کے سربراہ کا تقرر حکومت کرے۔
ماہرین کے مطابق، نئی وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی ساکھ سے متعلق خدشات اس عدالت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے وفاقی آئینی عدالت کو اپنے اثر سے آزاد دکھانا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔
سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کو اصولی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں