راجنپور: بی ایم پی اہلکاروں نے اپنی عدالت لگا لی، شہری پر برہنہ تشدد، ویڈیو وائرل

ملتان،ڈیرہ غازیخان ( کرائم سیل،بیورورپورٹ )صدیق گورچانی کو مبینہ اغواء کرنے والے ملزمان سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر بے نقاب، مبینہ لاپتہ صدیق گورچانی ہائی کورٹ میں کیس کے باوجود بارڈر ملٹری پولیس کےافسران کی تحویل میں ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے پر بارڈر ملٹری پولیس کے اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا اور پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی شروع کر دی گئی۔ صوبائی وزیر شیر علی خان گورچانی نے اس افسوسناک واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدیق گورچانی پر تشدد کرنے والے بی ایم پی کے اہلکار انسان نہیں، جلاد ہیں اور جن افسران کے حکم پر یہ سب کچھ ہوا ان سب کو نشان عبرت بنا دیں گے۔صدیق گورچانی پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی شروع کر دی گئی ہے ان کو انجام تک پہنچائیں گے جبکہ ایم این اے ڈاکٹر حفیظ خان دریشک نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے کہ صدیق گورچانی پر تشدو کرنے والے جلادوں کو بی ایم پی میں نوکری کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ملوث اہلکارون نوکری سے برطرف کیا جائے بتایا جاتا ہے کہ بی ایم پی کے کمانڈنٹ ناصر شہزاد ڈوگر نے واقع کا سختی سے نوٹس لیتے بی ایم پی کے اھلکاروں سیف اللہ دفعدار، کاشف علی دفعدار، خدا بخش نائب دفعدار اور بی ایم پی کے سواران شاہجہان و احسان اللہ جسکانی کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راجن پور میں بہیمانہ تشدد کے واقعہ سے پورا ضلع سکتے میں ہے۔ کئی ماہ قبل نوجوان صدیق گورچانی ولد غازی خان گورچانی ڈیرہ غازی خان سے مبینہ اغواء ہوا جس کی گمشدگی کا کیس اس وقت ملتان ہائی کورٹ میں بی ایم پی کے خلاف صدیق کے والد غازی خان گورچانی کی مدعیت میں زیر سماعت ہے۔ ہائی کورٹ میں کیس چلنے کے باوجود بارڈر ملٹری پولیس نےچند ماہ قبل مدعی غازی خان گورچانی کے گھر پر ریڈ کیا اور نہ صرف گھر پر چھاپہ مارا، بلکہ غازی خان، ان کے چھوٹے بھائیوں کو اٹھا کر تھانے میں بند کر دیا اور مبینہ طور پر ان کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بی ایم پی اہلکاورں کا مقصد غازی خان سے زبردستی حق میں بیان دلوانا تھا مگر گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کئی ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ صدیق گورچانی پر تمن مزاری کے علاقہ میں بارڈر ملٹری پولیس کے افسران سیف اللہ مزاری اور خدا بخش مزاری وحشیانہ تشدد کر رہے ہیں ویڈیو میں بے چارہ نوجوان گڑگڑاتے ہوئے انصاف اور رحم کی دہائی دے رہا ہے۔ورثاء نےوزیرِ اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور آرمی چیف عاصم منیر سے باڈر ملٹری پولیس کی وردی میں چھپی کالی بھیڑوں کے خلاف اس ہائی پروفائل کیس کا فوری اور سخت نوٹس لینے اور تشدد کرنے والے ملزمان کو فی الفور گرفتار کرنے اور صدیق گورچانی کو فوری طور پر بی ایم پی راجن پور کی مبینہ تحویل سے رہا کروانے کا مطالبہ کیا ہے بتایا جاتا ہے کہ چند روز قبل تمن مزاری کے علاقہ میں بی ایم پی کے اہلکاروں نے مبینہ طور نہ صرف صدیق گورچانی کو سرعام برہنہ کرکے تشددکیا بلکہ ویڈیوز بنا کر صدیق گورچانی کوکالعدم بی ایل اے کے ٹیگ لگا کر فوٹوز بنائے اور سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا، علاوہ ازیں سول سوسائٹی کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک شہری کے اغواء کا نہیں، بلکہ ہائی کورٹ کے دائرہ کار میں آنے والے کیس میں ایک ریاستی ادارے کی مبینہ طور پر طاقت کے بے جا استعمال کا ہے۔ اس افسوسناک واقعہ کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ صدیق گورچانی گورنمنٹ کنٹریکٹر تھا اور اس کے خلاف متعدد ایف آرز بھی درج کرائی گئیں جس پر صدیق گرچانی نے سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز کے ذریعے سابق کمانڈنٹ بی ایم پی اور سابق ڈپٹی کمشنر راجن پور اور دیگر آفیسران کے خلاف کردار کشی کی مبینہ سوشل میڈیا مہم چلا رکھی ہے جس کے نتیجہ میں صدیق گورچانی پر مبینہ بیہمانہ تشدد کا واقعہ رونما ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں