ملتان(قوم ایجوکیشن سیل) زکریا یونیورسٹی کے فارسٹڈی ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افضل ریپ کیس کے ملزم ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کو اساتذہ کی تنظیم یو ٹی ایف کی حمایت نے ہر فورم پر مدعیہ کیلئے رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ کے ایک ذمہ دار ممبر نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ نے ہر یونیورسٹی انتظامیہ کو دبائو میں رکھا اور یونیورسٹی انتظامیہ ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوا کرتی تھی۔اب پہلی مرتبہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ ہر فور م پر ہاتھ جوڑتے اور آنسو بہاتے ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے کو لٹکا ئے رکھنا چاہتی ہے تاکہ اونٹ پہاڑ کے نیچے ہی رہے۔معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کی طرف سے یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کمیٹی کو نئی درخواست دی گئی ہے جس میں رولز کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کمیٹی اپنی کارروائی جاری رکھ سکتی ہے جس پر سخت دبائو کےباوجود ہراسمنٹ کمیٹی نے دوبارہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کو طلب کیا تھا۔علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کے گواہان بھی تتر بتر ہو گئے کہ ہم گواہی نہیں دے سکتے ہم پر اساتدہ کی تنظیم کا دبائو ہے ڈاکٹر شازیہ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ دو مرتبہ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب سے مل چکی ہیں مگر ملتان میں ایک اہم عہدہ پر تعینات ڈاکٹر بھابھہ کا زرعی یونیورسٹی کا کلاس فیلو پولیس آفیسر ڈٹ کر ڈاکٹر بھابھہ کا ساتھ دے رہا ہے اور مذکورہ آفیسر نے ڈاکٹر شازیہ کو مشورہ دیا کہ پولیس انویسٹی گیشن میں تفتیش کی تبدیلی کو چھوڑیں ہم آپ کا مقدمہ عدالت میں بھیج دیتے ہیں پھر کورٹ جو بھی فیصلہ کرے جس پر ڈاکٹر شازیہ نے جواب دیا کہ جب پولیس ہی انصاف نہیں کررہی اور تفتیش میں ڈنڈی ماررہی ہے تو پھر کیس کی تفتیش بھی خراب کرکے یہ عدالت بھیجے گی ایسی صورت میں انصاف کیسے ملے گا۔







