بہاولپور (کرائم سیل) روزنامہ قوم کی خبر پر بہاولپور کے طاقتور سیاستدانوں سمیت بلڈرز کی کوششیں بھی آلودہ و بری شہرت کے حامل رمضان نمبردار کو بچانے میں ناکام رہیں۔علیشبہ بی بی زیادتی کیس میں متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دینے اور کیس سے دستبردار کروانے کے لیے گھر میں داخل ہو کر دباؤ ڈالنے کے جرم میں ایس پی انویسٹی گیشن کی انکوائری میں قصوروار ثابت ہونے پر رمضان نمبردار سمیت اس کے بھائی شعبان اور دو دیگر نامزد افراد کے خلاف ڈی پی او بہاولپور کے حکم پر مقدمہ نمبر 1601/25 بجرم 452/506 148/149 ت پ تھانہ کینٹ میں درج کر دیا گیا اور ایس ایچ او کینٹ کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے قریبی مانے جانے والے رمضان نمبردار کو ڈی پی او کے حکم پر گرفتار کرنا پڑاجبکہ اطلاعات کے مطابق رمضان نمبردار نے شرعی نکاح کے بعد مدعیہ سے صلح نامہ کے اسٹامپ بھی لے لیے تھے جو بعد میں ظاہر کیے جانے تھے۔ ڈی پی او کے سخت احکامات کے بعد چالاک و شاطر نمبردار نے پولیس سے بچنے کے لیے بھرپور کوشش کیں مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ بہاولپور کے سنجیدہ حلقےپولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تھانے کے کیمروں کا ان لائن ریکارڈ چیک کیا جائے اور دیکھا جائے کہ اس مقدمے کے درج ہونے کے بعد رمضان نمبردار کے تھانے میں کیا کیا سرگرمیاں رہی ہیں وہ کن کن افسران سے کن کن اوقات میں ملتا رہا ہے کیونکہ تھانہ کینٹ کے اندرونی ذرائع سے جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق گرفتار ملزم شہزاد سے حوالات میں رمضان نمبردار کو یہ کہتے ہوئے دیکھا اور سنا گیا: تم نے جو زیادتی کی ہے اس کے بدلے میں تمہارا شرعی نکاح علیشبہ بی بی کے ساتھ کر دیا گیا اور تمہاری بیٹی کا نکاح علیشبہ کے بھائی کے ساتھ کیا جا رہا ہے جس کے بعد یہ شرعی نکاحوں کا عمل بھی کیا گیا جس کی تصدیق متاثرہ بچی اس کی والدہ اور اس کے والد نے روزنامہ قوم کو بیان میں بھی کی تھی۔ اہلِ علاقہ کے مطابق گرفتار ملزم شہزاد کی بیٹی بھی ابھی نابالغ ہے، تقریباً 12–سے13 سال کی عمر جسے رمضان نمبردار اور ایس ایچ او نے اپنے مالی مفاد اور جنسی درندے شہزاد نے نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے بعد اپنے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔ بعد ازاں شرعی نکاح بھی کیے گئے جن سے کوئی چاہتے ہوئے بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاندان اور رمضان نمبردار آپس میں رشتہ دار بھی ہیں،جس کی صلح بھی ممکن ہے مگر پولیس نےرمضان نمبردار پر درج ہونے والے مقدمے میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر کم عمری کے نکاح کی دفعات شامل نہیں کی گئیں۔ڈی پی او بہاولپور نے ایس ایچ او محمد سہیل قاسم، محرر اور سنتری کے خلاف کارروائی کے لیے چارج شیٹیں جاری کر دی ہیں، جن کی انکوائری ڈی ایس پی لیگل جام محسن کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز تھانے میں انکوائری کرتے ہوئے پولیس ملازمین کے ساتھ ساتھ گرفتار رمضان نمبردار سے بھی اس معاملے کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ پولیس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او کی مشاورت سے یہ تمام کام انجام پائے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈی پی او بہاولپور کے سخت ایکشن کے باوجود کئی سفارشات اور مختلف ایس ایچ اوز کی کوششیں رنگ نہ لائیں، تو چالاک و شاطر رمضان نمبردار نے ایس ایچ او کی مشاورت سے عدالت سے بیلف ڈلوا کر اپنی زیرِ التوا گرفتاری سے عارضی طور پر چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی جس پر بھی سنجیدہ حلقوں نے متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ان تمام تر تفصیلات کا موقف لینے کے لیے ترجمان بہاولپور پولیس سے رابطہ کیا گیا مگر اتنے سنجیدہ ایشو پر انہوں نے جواب دینا گوارہ نہ سمجھا ۔یاد رہے کہ روز نامہ قوم نے چھ نومبر کو خبر شائع کی تھی کہ تھانہ کینٹ کی حدود میں 13 سالہ پانچویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ مسلسل زیادتی کے بعد چھ سات ماہ کی حاملہ ہونے پر مقدمہ درج ہونے پر ایس ایچ او اور رمضان نمبردار کی مبینہ ملی بھگت سے شرعی نکاح ہوا تاکہ معاملے کو دبایا جا سکے جو کہ 100 فیصد درست ثابت ہو گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے متاثرہ خاندان ظلم کرنے والا اور ظالم کی سہولت کاری کرنے والا آپس میں قریبی عزیز ہیں جن کی صلح بھی بہت جلد متوقع ہے مگر حیرانگی یہ ہے کہ اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود بھی پولیس نہ تو متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کر سکی اور نہ ہی سرکار کی مدعیت میں کوئی کارروائی ہوئی۔







