ملتان ( وقائع نگار) ڈپٹی کلکٹر کی مبینہ سرپرستی میں سپرنٹنڈنٹ نے کسٹم جی پی او کو سمگلروں کے لیے سمگلنگ کا آسان راستہ بنا دیا ۔روزانہ درجنوں پارسل بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کئے کلیئر
ہونے لگے۔ ڈپٹی کلکٹر اپنا حصہ لے کر خاموش تماشائی بن گئیں۔ تفصیل کے مطابق ڈپٹی کلکٹر قرۃ العین رامے جب سے ملتان ایئرپورٹ پر تعینات ہوئی ہیں انہوں نے ایک طرف تو ملتان ا یئرپورٹ پر سمگلنگ کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ساتھ لالچ کے چکر میں مبینہ طورپرسپرنٹنڈنٹ عدنان چانڈیہ کے ذریعے ملتان جی پی او کو سمگلروں کے لیے سمگلنگ کرنے کے لیے آسان راستہ بھی بنا دیا ہے۔ عدنان چانڈیہ گزشتہ ایک سال سے ملتان جی پی او پر تعینات ہیں۔ چھ ماہ قبل بھی ڈپٹی کلکٹر سمیرہ اظہر نے جی پی او پر چھاپہ مار کر کروڑوں روپے کا سمگلڈ سامان پکڑ لیا تھا جس کی رپورٹ انہوں نے سابقہ کلکٹر کسٹم طیبہ کیانی کو دی تھی لیکن انہوں نے ایک بااثر سیاستدان کی وجہ سے چپ سادھ لی ۔سپرنٹنڈنٹ عدنان چانڈیہ پر ماضی میں بھی جب وہ کسٹم انٹیلیجنس میں تعینات تھے کرپشن کی متعدد انکوائریاں ہوئیں جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر دبا دی گئیں۔ اب ایک مرتبہ پھر ڈپٹی کلکٹر قرۃ العین رامے نے سپرنٹنڈنٹ عدنان چانڈیہ سے اپنا حصہ لینے کے بدلے تم جو مرضی کرو جس پر سپرنٹنڈنٹ عدنان چانڈیہ نے سمگلروں کو کہا کہ وہ بلا خوف و ڈر کمرشل سامان جی پی او کے راستے لے کر آئیں اب روزانہ سمگلڈ قیمتی سامان کے درجنوں 30 کلوگرام والے پارسل جی پی او پر آتے ہیں جن میں میڈیسن، کپڑا ، کھجور ، موبائل اسیسریز اور دیگر قیمتی سامان آتا ہے۔ عدنان چانڈیہ اور اس کا آپریٹر ایک لاکھ روپے فی پارسل لے کر انہیں چھوڑ دیتا ہے جس سے قومی خزانے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے جب ڈپٹی کلکٹر قرۃ العین رامے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ملتان ایئرپورٹ پر روزانہ 10 سے زائد غیر ملکی فلائٹس آتی ہیں ، بہت زیادہ مصروف ہوتی ہوں جسکی وجہ سے جی پی او کی طرف نہیں جا سکتی۔ مجھے شکایات ملی تھیں جس پر میں نے ایک ایماندار انسپکٹر بلال کو جی پی او پر تعینات کر دیا ہے جس کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ وہاں سمگلنگ رک جائے گی ۔







