پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ان کے ساتھی رہنماؤں کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اور گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے ان کی کوششیں ثمر آور ہونے والی ہیں۔ ان کے مطابق دس سے پندرہ روز میں ان کوششوں کے نتائج عوام کے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی فضا پہلے ہی بے یقینی اور بے اعتمادی سے بھری ہوئی ہے۔فواد چوہدری اور ان کے ساتھیوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی کشیدگی کو کم کیے بغیر نہ معاشی اصلاحات کامیاب ہو سکتی ہیں اور نہ ہی ریاستی ڈھانچے میں ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ان رہنماؤں کی رائے میں سیاسی مخالفین کے درمیان دوریاں کم کرنا، باہمی احترام کی بنیاد رکھنا اور گرفتار سیاسی شخصیات کے لیے راستہ نکالنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ان کا عندیہ ہے کہ جلد ہی ملک میں سیاسی یخ بستگی پگھلے گی اور سیاسی درجۂ حرارت میں کمی آئے گی۔مگر دوسری طرف قائدِ حزبِ اختلاف عمران خان کی جانب سے یہ واضح پیغام سامنے آیا کہ وہ نہ موجودہ حکومتی قیادت سے بات چیت کریں گے اور نہ ہی بااثر ریاستی اداروں سے۔ جیل میں موجود ہونے کے باوجود ان کا لہجہ اب بھی سخت اور ضدی ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ پیغام میں کہا ہے کہ بات چیت بے فائدہ ہے اور اگر کہیں کسی رابطے کا امکان بنتا بھی ہے تو وہ فیصلہ حزبِ اختلاف کے اتحاد کے دیگر قائدین کریں گے۔ ان کے اس بیان نے فواد چوہدری کے دعوؤں کے اثر کو کم از کم وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔یہ صورتحال دو مختلف بیانیوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات مکالمے اور مصالحت کے متقاضی ہیں، ورنہ سیاسی تصادم ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا۔ دوسری طرف وہ سوچ کھڑی ہے جو مفاہمت کو اصولوں سے انحراف تصور کرتی ہے اور مضبوط بیانیے کے ساتھ مزاحمت پر قائم رہنے کو واحد راستہ سمجھتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس سیاسی کھینچا تانی میں حقیقت کا پہلو کہاں زیادہ مضبوط ہے؟ کیا پاکستان ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں سیاسی قوتیں یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ ملک مزید تقسیم برداشت نہیں کر سکتا؟ یا پھر یہ محض وقتی سیاسی حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد عوامی تاثر برقرار رکھنا ہے؟فواد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے بیمار شاہ محمود قریشی کی عیادت، دیگر قید رہنماؤں سے ملاقاتیں اور رابطوں کی خبریں دراصل پسِ پردہ ہونے والے سیاسی جوڑ توڑ کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ حکومتی صفوں میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو سیاسی درجۂ حرارت کم کرنے کے حامی ہیں۔ اسی لیے یہ دعویٰ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی نہ کسی حد تک دروازے کھلنے کی امید موجود ہے۔تاہم عمران خان کے بیان نے واضح کردیا کہ وہ اب بھی اپنے بیانیے سے ذرا پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اصولی موقف سے انحراف سیاسی کمزوری ہے۔ لیکن یہ سوال بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ کیا ہر سیاسی جدوجہد صرف اصول پر کھڑے رہنے سے کامیاب ہوتی ہے یا کبھی حقیقت پسندی اور لچک بھی مستقبل کے دروازے کھولتی ہے؟پاکستان کو اس وقت شدید معاشی بحران، عوامی بے چینی، ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ اور عالمی سطح پر بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس ماحول میں مسلسل محاذ آرائی صرف انتشار میں اضافہ کرے گی۔ عوام، جو پہلے ہی مہنگائی اور بے یقینی کا بوجھ اٹھائے کھڑے ہیں، اب سیاسی توجہ ذاتی انا اور ضد کی سیاست سے ہٹ کر مسائل کے حل پر چاہتے ہیں۔یہ درست ہے کہ مزاحمت کی سیاست تاریخ کا حصہ ہے اور بعض اوقات بڑی تبدیلیاں مزاحمت کے نتیجے میں ہی سامنے آتی ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستیں محاذ آرائی کی مسلسل کیفیت میں پھل نہیں سکتیں۔ مکالمہ، فہم، لچک اور تدبر طویل مدتی استحکام کی بنیاد بنتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو اس مقام پر پہنچنا ہوتا ہے جہاں ذاتی انا کے بجائے قومی ضرورتیں ترجیح پاتی ہیں۔یہ ادراک ضروری ہے کہ محض جیلوں بھرنے، عدالتوں کے فیصلوں، یا احتجاج کے زور پر مسائل حل نہیں ہوتے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں پائیدار حل مکالمے سے نکلتے ہیں، نہ کہ مسلسل محاذ آرائی اور نفرت انگیزی سے۔وقت ثابت کرے گا کہ فواد چوہدری اور ان کے ساتھی کسی حقیقی سیاسی پیش رفت کا حصہ ہیں یا یہ محض اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ اسی طرح وقت یہ بھی بتائے گا کہ عمران خان کا سخت مؤقف انہیں عوامی ہمدردی میں مزید اضافہ دے گا یا سیاسی تنہائی کی طرف لے جائے گا۔مگر جو بات طے ہے وہ یہ کہ پاکستان کی سیاست کو اب بالغ نظری، ادارہ جاتی توازن، انصاف کے منصفانہ اصول، اور سب کے لیے ایک جیسے قواعد کی ضرورت ہے۔ ملک اب مزید بے یقینی اور تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اس وقت اصل سوال یہ نہیں کہ کون حق پر ہے اور کون نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون اس ملک کو انتشار سے نکال کر کسی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ وہ رہنما ہی تاریخ میں جگہ پاتے ہیں جو قوم کو جوڑنے میں کامیاب ہوں، نہ کہ اسے مزید تقسیم کر دیں۔پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ سیاسی قوتیں اپنے اختلافات کو اصولی انداز میں حل کریں، نہ کہ محاذ آرائی کو مستقل شعار بنا لیں۔ ملک کا مستقبل شخصیات کے تصادم میں نہیں، اداروں کی مضبوطی، انصاف، مکالمے اور مشترکہ قومی مفاد میں پوشیدہ ہے۔







