بہاولپور: درندگی کی انتہا، 13 سالہ طالبہ حاملہ، پولیس اور نمبردار کا “انصاف”، ملزم سے نکاح

بہاولپور (کرائم سیل)نمبرداراورپولیس کمسن لڑکی سے زیادتی کرکے حاملہ کرنےوالےملزم کے محافظ بن گئے۔نمبردارجس نے ملزم کیخلاف زیادتی کامقدمہ درج کرایاتھااس نے مبینہ طورپرملزم پارٹی سے پیسے پکڑکرپولیس کادبائوڈلواکر13سالہ بچی کازبردستی نکاح 45سالہ ملزم سے کروادیا۔تفصیلات کے مطابق بستی لاڑ موضع ڈیرہ عزت کی رہائشی انیلہ بی بی نے مقدمہ نمبر 1557/25 بجرم( !!!376) تھانہ کینٹ میں درج کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میرا خاوند چوکیدار ہے میں سلائی کڑاہی کا کام کرتی ہوں اور اس کے آرڈر سپلائی کرنے کے لیے گھر سے باہر جانا پڑتا ہے 29 اکتوبر کو آرڈر دے کر میں گھر ائی تو میری بیٹی علیشبہ بی بی بعمری 13/ 14 سالہ جو کہ پانچویں کلاس کی طالبہ ہے پریشان تھی میں نے اس کے والد عبدالرزاق اور گواہ حاجی محمد جاوید کے سامنے اس سے پوچھا تو اس نے بتلایا کہ محمد شہزاد ولد عبدالمالک جو کہ میرے خاوند کا کزن ہے نے ڈرا دھمکا کر چھری دکھا کر اسکے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف زنا حرام کیا۔ میری بیٹی کی طبیعت خراب ہوئی جسے میں لے کر ڈاکٹر کے پاس بی وی ایچ گئی جس نے ٹیسٹ کر کے بتایا کہ اس کی بیٹی چھ سات ماہ کی حاملہ ہے۔ 15 پر کال کی جس پر مقدمہ درج ہوا اور عقیل احمد سب انسپکٹر نے تفتیش کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں جب روزنامہ’’ قوم ‘‘نے رمضان نمبردار کے ساتھ رابطہ کیا اور اس وقوعہ کے متعلق تفصیلات معلوم کی تو انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بچی اور ملزم آپس میں عزیز ہیں۔ بچی نے شرعی نکاح پہلے کیا ہوا تھا ۔اب ان کا مسئلہ صلح صفائی سے حل ہو گیا ہے۔ جب بچی کی والدہ انیلہ بی بی اور اس کے والد عبدالرزاق اور متاثرہ بچی علیشبہ بی بی نے روزنامہ قوم کو ویڈیو بیان میں بتایا کہ اب ہمیں پولیس اور نمبردار نے مجبور کرکے شرعی نکاح کروایا اور دھمکی دی کہ اگر یہ معاملہ نہ ختم کیا تو آپ پر آپکی متاثرہ بیٹی پر مقدمہ درج ہو جائے گا کیونکہ سات آٹھ ماہ آپ نے اس جرم کو چھپایا ہے ۔گزشتہ سے پیوستہ روز نمبردار نے نکاح خواں کو بلا کر پنچایت کی موجودگی میں میری زیادتی کا شکار بیٹی علیشبہ کا نکاح گرفتار ملزم شہزاد کے ساتھ کروا دیا ہے اور میرے بیٹے کا اس کے وٹے میں نکاح کروا کر میری معصوم 13 سالہ پانچویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ ہونے والی سات آٹھ ماہ تک زیادتی کو یہ لوگ چھپانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ہمیں علاقے سے معلوم ہو رہا ہے کہ رمضان نمبردار اور پولیس مبینہ طور پر 15 لاکھ روپیہ لے کر افسران کو غلط گائیڈ کر رہے ہیں اور ہمیں صلح کے لیے مجبور کر رہے ہیں جبکہ میری بیٹی کی عمر 13 سال ہے اور ملزم کی عمر 45 سال ہے۔ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ میرا خاوند چوکیدارہ کرتا ہے اور میں محنت مزدوری کر کے اپنی بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں مگر پولیس اور رمضان نمبردار زیادتی کرنے والے ملزم سے پیسے لے کر اس کو مکمل سہولت کاری کرتے ہوئے ہمارے کیس کو خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بہاولپور کی عوامی و سماجی تنظیموں سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں کےساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کا ہمیں انصاف چاہئے جبکہ پولیس اس معاملے کو دبانےکی کوششوں میں مصروف ہے جب ترجمان بہاولپور پولیس سے روزنامہ قوم نے اس مقدمے کی ایف آئی ار اور دیگر تفصیلات بھیج کر موقف لینے کی کوشش کی تو ترجمان بہاولپور پولیس نے کہا کہ میں ایس ایچ او کینٹ سے پوچھ کر تفصیلات بتاتا ہوں مگر خبر نیوز روم تک بھیجنے تک ابھی تک ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی پی او بہاولپور 45 سالہ شہزاد کو زیادتی کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طور پر شرعی نکاح کروانے والے نکاح خواں ،رمضان نمبردار اور پنچایت کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں۔

#dcbahawalpur #dpobahawalpur #bahawalpurnews

شیئر کریں

:مزید خبریں