راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے لیے حکومتیں معنی نہیں رکھتیں، گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو ٹیڑھی کرنا ہوگی، صوبائی صدر جنید اکبر

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے حکومتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، تاہم اگر گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو ٹیڑھی کرنا پڑے گی۔
نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری سے متعلق درخواست کی سماعت سے قبل پی ٹی آئی کے رہنما اور ارکانِ اسمبلی پشاور ہائی کورٹ پہنچے۔ عدالت پہنچنے والوں میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، سلمان اکرم راجا، جنید اکبر، اسد قیصر سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
اس موقع پر اسپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ عدالت میں ہم اپنا ہر آئینی اور قانونی مؤقف واضح کریں گے۔
سینئر وکیل سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ عدالت وزیراعلیٰ کے حلف کے لیے احکامات جاری کرے گی، کیونکہ 90 ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ کے راستے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کہا کہ اگر آئینی حق دینے میں تاخیر کی گئی تو ہم قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا حق لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے اقتدار مقصد نہیں بلکہ عوامی فیصلے کا احترام اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جو ماحول ہم دو سال سے بنانے میں ناکام رہے، شاید اب حکومت خود ہمیں موقع دے رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے، نہ کہ کسی ادارے نے۔ اگر کل کو کوئی افسر کہے کہ یہ لوگ ہمیں قبول نہیں، تو یہ جمہوریت کے منافی ہے۔”
دوسری جانب اسد قیصر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب مکمل طور پر آئینی اور قانونی طریقے سے ہوا، اور ہم عدالت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ آج ہی وزیراعلیٰ کو حلف اٹھانے کا حکم دے گی۔
انہوں نے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ “صوبے کو امن و امان کے مسائل درپیش ہیں، لہٰذا ہم سب کو مل کر ان کے حل کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔”

شیئر کریں

:مزید خبریں