قلم کی غیرت ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوئی”، میاں غفار کی تحریر نے سچ کو زنجیروں سے آزاد کر دیا

اسلام آباد(ثاقب خان کھٹڑ) قلم کی غیرت ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوئی،یقین کیجیے — یہ وہ تحریر نہیں جو کاغذ پر لکھی گئی ہو،یہ وہ تازیانہ ہے جو غفلت زدہ ضمیروں پر برسایا گیا ہے۔اور اس تازیانے کی ہر چوٹ میں وہی تلخی، وہی سچائی اور وہی طنطنہ ہے جو ایک سچے قلم کار کے الفاظ سے جھلکتا ہے میاں غفار صاحب نے جو لکھا ہے،وہ محض مضمون نہیں، ایک معاشرتی آئینہ ہے۔اس آئینے میں ہم سب کی بگڑی ہوئی تصویریں جھانک رہی ہیں اور ستم یہ کہ ہمیں اب بھی وہ تصویریں قابلِ دید لگتی ہیں۔ یہ تحریر چیخ کر کہتی ہے، قلم کی غیرت ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوئی۔ابھی کچھ قلم باقی ہیں جو بکنے سے انکار کرتے ہیں،جھکنے سے انکار کرتے ہیں اور سچ کو خاموش نہیں ہونے دیتے۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں جھوٹ ترقی کا زینہ بن چکا ہے، جہاں کردار کا قتل معمولی خبر اور ضمیر کی موت بریکنگ نیوز بھی نہیں بنتی۔ صحافت “پالیسی” کی غلام، دانشوری “فنڈنگ” کی محتاج اور سچ “سیلیکٹڈ” ہو چکا ہے۔مگر شکر ہے— ابھی سب دیئے بجھے نہیں، ابھی قلم کی غیرت زندہ ہےاور اس غیرت کا نام ہے میاں غفار۔انہوں نے وہ سوال پورے زور و شور سے اٹھایا ہے جس سے سارا معاشرہ نظریں چُرا لیتا ہے — “ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ، آپ استاد ہیں یا تاجرِ بدن؟” یہ جملہ چھوٹا ہے مگر گونج صدیوں کی ہے۔ یہ وہ تیر ہے جو سیدھا سماج کے سینے میں پیوست ہوتا ہے۔ استاد تو وہ ہوتا ہے جو روحوں کو جگاتا ہےجو اخلاق اور علم کا چراغ جلائے رکھتا ہے۔ لیکن جب وہی ہاتھ جو علم دیتا ہے، شاگرد کے جسم پر خراشیں بن جائے تو یہ صرف جرم نہیں، یہ پورے نظامِ تعلیم کی موت ہے۔ یہ سوال ایک فرد سے نہیں، پورے معاشرے سے ہے۔ کیا ہم اب بھی اپنے تعلیمی اداروں کو “درس گاہ” کہہ سکتے ہیں؟ کیا یہ وہی درس گاہیں ہیں جہاں علم کی روشنی جلتی تھی یا اب یہ خواہشوں کی منڈی بن گئی ہیں؟اور پھر تماشہ دیکھیے —جب ضمانت پر رہائی ملی، پھول نچھاور کیے گئے، نعرے لگے، ہار ڈالے گئے۔ یہ استقبال نہیں، یہ اخلاقی خودکشی کا جشن تھا۔ کیا اس قوم نے شرم سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے؟ کیا اب ضمیر بھی “ریٹائر” ہو چکا ہے؟نہیں صاحب —ابھی ضمیر نہیں مرا، ابھی کچھ لوگ زندہ ہیں، جن کے قلم زندہ ہیں۔اور انہی زندہ قلموں میں سے ایک کا نام ہے — میاں غفار۔ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کا کیس عدالت میں نہیں، قوم کی اجتماعی غیرت کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔فیصلہ عدالت نہیں، تاریخ دے گی — اور تاریخ کے صفحے مٹتے نہیں۔ عدالت ضمانت دے سکتی ہے اس نے دے دی مگر ضمیر معافی نہیں دیتا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں میاں غفار کا قلم عدالت سے بڑا منصف بن جاتا ہے۔انہوں نے وہ سوال اٹھایا جو ججوں نے نہیں پوچھا، انہوں نے وہ لعنت بھیجی جو علما نے نہیں بھیجی اور انہوں نے وہ درد لکھا جو کسی نے محسوس نہیں کیا۔ یہ تحریر کسی شخص، ادارے یا تنظیم پر حملہ نہیں— یہ بغاوت ہے اس اجتماعی منافقت کے خلاف جو مذہب کے لبادے میں چھپی ہے۔ جب مذہبی تنظیمیں اخلاقیات کے مجرموں کے گلے میں ہار ڈالنے لگیں تو پھر مسجد کے دروازے پر تالا لگ جانا چاہیے۔ہم نے مذہب کو نعرہ، اخلاق کو تماشہ اور شرم کو روایت سمجھ لیا ہے۔ یہ وہی بیماری ہے جس نے قوموں کو تہذیبوں سمیت دفن کر دیا۔ میاں غفار نے قلم نہیں اٹھایا —انہوں نے چھتر اور کوڑا اٹھایا ہے اور وہ کوڑا ان سب کے چہروں پر پڑ رہا ہے جو اخلاق کے نام پر اخلاق کا جنازہ نکال رہے ہیں۔ کبھی شبہ گزرتا ہے “یہ قوم مر نہیں رہی، گل سڑ رہی ہے۔”اور سچ یہی ہے۔ مسئلہ ضرورت یا غربت نہیں، بے حسی ہے۔ یہ لوگ قبرستانوں میں نہیں، ضمیر کے بستروں پر سوئے ہوئے ہیں۔ ہم نے ظلم کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے اور سچ کے ساتھ دشمنی۔میاں غفار کی تحریر اسی بے حسی کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ قلم اگر خوفزدہ ہو جائے تو شیطان بن جاتا ہے۔اور جو قلم خوف سے آزاد ہو —وہی قوم کو زندہ کرتا ہے۔ پھر وہ جملہ —“مجھے تو عورت مارچ اور موم بتی مافیا کہیں نظر نہیں آئا۔”کیا ہی کاری وار ہے۔یہ جملہ طنز نہیں، عورت کے نام پر سیاست کرنے والوں کے چہرے پر طمانچہ ہے۔ جہاں ایک عورت سچ بول رہی ہو، وہاں یہ سب “حقوقِ نسواں” کے ٹھیکیدار موم کی طرح پگھل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ افضل اکیلی لڑ رہی ہے۔اکیلی مگر بہادری سے، اور معاشرہ؟ تماش بینوں کی بھیڑ بن چکا ہے۔ چھتوں سے دیکھنے والے یہ لوگ کل اپنے گھروں کے دروازے پر یہی آگ پائیں گے۔ میاں غفار نے کہا —“کسی کے گھر آگ لگی ہو تو تماشہ نہیں دیکھتے۔”مگر ہم وہ قوم ہیں جو آگ بجھانے کے بجائے اسی میں ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالتی ہے۔ ہماری انسانیت اخلاقیات اور قومی حمیت اب ویوز، لائکس اور شیئرز کی غلام بن چکی ہے۔ پھر وہ نام —ایڈیشنل خزانچی صفدر لنگاہ، ایڈیشنل رجسٹرار کامران تصدق، ڈپٹی رجسٹرار طاہر ماڑھا، آصف یاسین۔ یہ نام محض افراد نہیں، یہ علامتیں ہیں، اس گلے سڑے نظام کی علامتیں جہاں عہدے، کردار سے بڑے ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف تاجر، زمیندار، سراج بھروانہ اور سلیم شاہ —سب وہ چہرے ہیں جنہوں نے اپنے اجتماعی اخلاقیات پر اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈال دی ہے۔ یہ معاشرہ اخلاقیات کے جنازے کو پھولوں سے سجا رہا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ خاموشی ہے۔ملتان کی خواتین تنظیمیں، مائیں، بہنیں، بیٹیاں — سب خاموش؟ کوئی احتجاج نہیں؟ کوئی آنسو نہیں؟ کوئی چیخ نہیں؟ کیا غیرت اب صرف کتابوں میں رہ گئی ہے؟کیا انصاف صرف نعروں میں زندہ ہے؟میاں غفار نے ٹھیک کہا —“اگر آج آواز نہیں اٹھاؤ گی،تو کل یہ واقعہ تمہارے دروازے پر کھڑا ہوگا۔”یہ جملہ محض انتباہ نہیں،یہ نوحہ ہے —اس قوم کے لیے جو ظلم کے وقت خاموش رہ کر ظلم کا شریک بن جاتی ہے۔ یہ تحریر غصہ بھی ہے، کرب بھی، درد بھی، طنز بھی، ماتم بھی —مگر سب سے بڑھ کر غیرت ہے۔ ایسی غیرت جو اب کمیاب ہے۔ جب زیادہ تر قلم سرکاری اشتہارات کے نیچے دب چکے ہیں، میاں غفار نے قلم کو ہتھیار بنایا۔انہوں نے بتایا کہ قلم جب غیرت مند ہو تو ایک شخص بھی پورے نظام کے مقابل کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر ہمیں یاد دلاتی ہےکہ ابھی سب دیئے بجھے نہیں۔ابھی کچھ دل زندہ ہیں۔ابھی کچھ ضمیر جاگ رہے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر —قلم کی غیرت ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوئی۔میاں غفار صاحب! آپ نے وہ قرض ادا کیا ہےجو سچ ہمیشہ اپنے اہلِ قلم سے مانگتا ہے۔ آپ کو سلام ہے۔ آپ نے یاد دلایا کہ قومیں جب سچ کو دفن کر دیتی ہیں تو وہ خود مٹی کا حصہ بن جاتی ہیں۔مگر جب کوئی قلم سچ لکھتا ہے،تو وہ تاریخ میں چراغ بن جاتا ہے۔تاریخ لکھے گی اور جب سب خاموش تھے، میاں غفار بولے تھے اور اس دن قلم نے ثابت کیا تھا کہ قلم کی غیرت ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں