ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے حالیہ تعینات عارضی و 6 ماہ سے زائد غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کی بطور ڈپٹی رجسٹرار تعیناتی کے وقت کی جانے والی دھاندلیوں جس میں ڈینز پر مشتمل ہائی لیول کمیٹی کی سفارشات کو مسترد کرنے کے بعد وائس چانسلر کی جانب سے ڈپٹی رجسٹرار، ڈپٹی خزانچی اور ڈپٹی کنٹرولر آف ایگزامینیشنز (گریڈ 18) کی اسامیوں کے لیے تشکیل دی گئی جونیئر افراد کی کمیٹی کی سفارشات پر اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے معزز جج جناب جسٹس محمد قاسم خان نے سنگین نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ اس عمل میں شفافیت اور قانون کے تقاضوں کو یقینی بنانا لازم ہے، بصورتِ دیگر پورے تقرری عمل پر قانونی و اخلاقی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ جسٹس قاسم خان کی جانب سے بھیجے گئے اعتراضات میں 1۔ پہلی کمیٹی کی سفارشات مسترد کرنے کی وجوہات کیا ہیں۔ معزز جج نے سوال اٹھایا کہ ابتدائی طور پر تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی، جو فیکلٹی کے ڈینز پر مشتمل تھی، اس کی سفارشات کیوں رد کی گئیں؟ اور اس کے بعد ایک دوسری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ارکان نسبتاً جونیئر تھے۔ کیا یہ اقدام انتظامی شفافیت کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے؟ 2. کیا یہ طریقہ کار سلیکشن کے عمل میں شفافیت کو یقینی بناتا ہے یا اس سے اقربا پروری اور جانبداری کا تاثر ابھرتا ہے؟ 3۔ اشتہار سے ہٹ کر کوئی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسی کسی شارٹ لسٹنگ کا طریقہ اپنایا جا سکتا ہے جو اشتہار میں واضح طور پر درج نہ ہو؟ اگر ایسا کیا گیا تو اس کے قانونی مضمرات کیا ہوں گے؟ 4۔ اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے مستقل مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تقرری کے کسی بھی عمل میں اشتہار میں دی گئی شرائط و ضوابط کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ اگر اس کے برعکس کوئی “غیر متعلقہ” شارٹ لسٹنگ کا طریقہ اختیار کیا گیا اور وائس چانسلر نے اس کی منظوری دی، تو یہ پورے عمل کو قانونی پیچیدگی میں ڈال سکتا ہے۔ 5۔ ان کے اس مراسلے کی کاپی سلیکشن بورڈ کے ہر رکن کو انفرادی طور پر اجلاس سے قبل فراہم کی جائے تاکہ وہ مکمل آگاہی کے ساتھ فیصلے کر سکیں۔ معزز جج کی جانب سے اٹھائے گئے نکات نہ صرف تقرری کے عمل میں شفافیت کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر مقررہ ضوابط اور عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کیا گیا تو ادارہ نہ صرف قانونی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام اس قدر بد تر اور غیر اخلاقی ہو چکا ہے کہ غیر قانونی معاملات کی چھان بین کی بجائے ان کو تحفظ فراہم کر دیا جاتا ہے اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ مراعات لینے والے افراد کی خاموشی ان اداروں کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔






