وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ تاحال ایک معمہ بن گیا ہے، کیونکہ گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے درمیان اس کی تصدیق یا تردید کے بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔
ذرائع وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے مطابق علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گزشتہ روز ہی گورنر ہاؤس بھجوا دیا گیا تھا اور اب اس پر کارروائی گورنر ہاؤس کی ذمہ داری ہے۔ تاہم، گورنر ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ سمری کے ذریعے باضابطہ طور پر گورنر کو بھیجا جاتا ہے۔
گورنر ہاؤس کے ذرائع نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ نے استعفیٰ کسی اور کو بھجوایا ہے تو اس بارے میں وہی وضاحت دے سکتے ہیں، جیسے ہی استعفیٰ موصول ہوگا قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مستعفی ہوئے بارہ گھنٹے سے زائد گزر چکے ہیں، لیکن اب تک ان کا استعفیٰ باضابطہ طور پر گورنر ہاؤس نہیں پہنچ سکا۔
اپنے استعفے میں علی امین گنڈاپور نے لکھا کہ وہ عمران خان کے حکم کی تعمیل میں وزارتِ اعلیٰ چھوڑ رہے ہیں۔ وزارتِ اعلیٰ ان کے لیے اعزاز تھی، انہوں نے عہدہ قیادت کے فیصلے کے مطابق چھوڑا۔ گنڈاپور کے مطابق جب انہوں نے ذمہ داری سنبھالی تو صوبہ مالی بحران اور دہشت گردی کے شدید مسائل سے دوچار تھا، لیکن ڈیڑھ سال میں صوبے کو استحکام کی راہ پر ڈالا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی رہنمائی میں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے، دہشت گردی کے خلاف جرات مندانہ اقدامات کیے اور عوام کی خدمت خلوص نیت سے کی۔ انہوں نے اپنے استعفے کے اختتام پر “پاکستان زندہ باد” اور “پاکستان تحریک انصاف پائندہ باد” کے الفاظ درج کیے۔






