باسط سلطان کی گن پوائنٹ پر پلاٹ پر قبضے کی کوشش، پروفیسر و اہلیہ کو دھمکیاں

ملتان(سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی وزیر و سابق ایم این اے مخدوم باسط سلطان بخاری نے اپنے مسلح گارڈوں کے ذریعے ایک مرتبہ پھر زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد صادق کی اہلیہ ڈاکٹر شازیہ کے ملکیتی پلاٹ پر قبضے کی ناکام کوشش کی اور سید باسط سلطان بخاری کے گن مین معید نے اعلان کیا کہ مجھے تو بخاری صاحب نے آپ کو اوپر بھیجنے کا حکم دیا تھا مگر میں آخری وارننگ دیتے ہوئے آپ کو یہاں سے گھر جانے کی اجازت دیتا ہوں لہذا فوری طور پر اس پلاٹ سے رفو چکر ہو جاو۔ بتایا جاتا ہے کہ 1985 میں 40 سال قبل مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی سے سابق ایم پی اے مخدوم عبداللہ شاہ بخاری نے ملتان کے علاقے سلطان آباد میں ایک پلاٹ روبینہ زوجہ محمد یونس کو فروخت کیا جنہوں نے مذکورہ پلاٹ کو لبنا نامی خاتون کو فروخت کر دیا اور 2012 میں یہی پلاٹ چوتھی جگہ پر ڈاکٹر شازیہ نواز نے خرید لیا تو ان کے خاوند نے صرف آٹھ مرلے کے اس پلاٹ پر اپنا گھر بنانے کا فیصلہ کیا اور اینٹیں و کنسٹرکشن کا سامان رکھوایا مگر باسط سلطان کے مسلح گارڈوں نے آ کر اینٹیں اور کنسٹرکشن کا سامان غائب کر دیا۔ جب ڈاکٹر شازیہ نواز کے شوہر پروفیسر ڈاکٹر محمد صادق چند معززین کو لے کر باسط سلطان بخاری کے پاس گئے تو انہوں نے بدتمیزی کی انتہا کرتے ہوئے کہا کہ جاؤ عبداللہ شاہ سے لے لو اور پھر انتہائی تکبر سے کہنے لگے کہ مجھے تو آپ کی شکلیں ہی اچھی نہیں لگ رہیں، میں آپ کو اپنے علاقے میں کنسٹرکشن کیوں کرنے دوں۔ ڈاکٹر شازیہ کے پاس عدالت کی طرف سے تعمیر کے احکامات موجود ہیں، حکم امتناعی موجود ہے اور وہ کنسٹرکشن کے لیے سرکاری محکموں و پولیس کے اعلی افسران کے دفاتر کے دھکے کھانے پر مجبور ہے حتیٰ کہ جنوبی پنجاب پولیس کے اعلی ترین آفیسر نے بھی مخدوم باسط سلطان کے خلاف مظلوم اور حقدار کی مدد کرنے کے حوالے سے اپنے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں