ملتان (سٹاف رپورٹر) محکمہ انہار کے انتہائی ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ہیڈ پنجند پر اربوں روپے سے بنائے گئے اضافی گیٹ سیلابی پانی کو سرے نکال ہی نہ سکے اور ایریگیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ نندی پور ضلع گوجرانوالہ کے انچارج غلام قادر بیراجز اور ہیڈ ورکس کے سرے سے ماہر ہی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے کسی اور ڈگری کے ساتھ محض ایک سال کی انجینئرنگ کی سند لے رکھی ہے اور وہ اس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ تعینات ہیں کیونکہ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ میں یہ کھڈے لائن پوسٹ مانی جاتی ہے اور یہاں کوئی بھی ماہر انجینئر جاب کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند سال سے اس ایریگیشن انسٹیٹیوٹ کی صورتحال یہ ہے کہ’’خرچہ کرو اور اپنی پسند کی رپورٹ لے لو‘‘والا رواج چل رہا ہے جبکہ حیران کن امر یہ ہے کہ ہیڈ پنجند کی ری ماڈلنگ اور ڈاؤن سٹریم کنکریٹ وال کے ڈیزائن کی منظوری بھی اسی نندی پور ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے دی ہے اور یہ محکمہ انہار کی 110 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دریائے چناب کا پانی اپ سٹریم جا کر تحصیل علی پور کو 80 فیصد سیلاب میں ڈبو گیا حالانکہ علی پور کے علاقے میں ہمیشہ دریائے سندھ سے سیلابی پانی ہی آیا کرتا تھا اور کبھی بھی چناب کے پانی نے وہاں تک مار نہیں کی تھی۔ ہیڈ ورکس کے ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی سال سے ہیڈ پنجند سے ریت اور سلٹ نہیں نکالی جا رہی البتہ جعلی بل بن رہے ہیں اور کاغذات میں ہر سال سلٹ کا نکالا جانا ظاہر کرکے بوگس ادائیگی حاصل کر لی جاتی ہے جس میں ہر کوئی اپنا حصہ بقدر جثہ لے جاتا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ محکمہ انہار کے ریکارڈ میں ہر سال چندر بھان دریائی بند کی مرمت بھی ہوتی ہے مگر عملی طور پر وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جس وقت چناب کا پانی ہیڈ پنجند پر بنائی گئی ڈائون سٹریم کنکریٹ دیوار کی رکاوٹ کی وجہ سے ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا، مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور، سیت پور اور اوچ شریف سمیت سینکڑوں آبادیوں کو ڈبو رہا تھا اس وقت دریائے سندھ میں صرف ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک پانی بہہ رہا تھا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جب ہیڈ پنجند کی لمبائی گزشتہ 100 سال سے 2800 فٹ تھی تب یہاں سے آٹھ لاکھ کیوسک تک پانی بھی باآسانی سے گزر جاتا تھا اور جلالپور پیروالا کی اتنے بڑے پیمانے پر تباہی بھی نہیں کرتا تھا جبکہ علی پور میں سرے سے داخل ہی نہیں ہوتا تھا مگر اب جبکہ ہیڈ پنجند کی چوڑائی میں 900 فٹ کا اضافہ کرکے اسے تقریباً 3700 سے 3800 فٹ کر دیا گیا ہے تو سیلابی پانی جو کہ زیادہ سے زیادہ چھ لاکھ کیوسک تک رہا، اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کر گیا۔ اس بربادی میں صرف اور صرف محکمہ انہار کے ارباب اختیار کی کرپشن، بد انتظامی، نااہلی، اربوں روپے کی لوٹ مار اور جعلی رپورٹوں کی بنیاد پر سو سال پرانے ہیڈ ورکس کو تباہ کیا جانا پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی سازش ہے جس پر حیران کن طور پر سیکرٹری انہار واصف خورشید، صوبائی وزیر انہار کاظم علی پیرزادہ اور دیگر اعلیٰ حکام چپ سادھے بیٹھے ہیں حالانکہ یہ پراجیکٹ ان کے دور میں مکمل ہی نہیں ہوا اور نہ ہی انہوں نے کسی بھی قسم کی کوئی منظوری دی پھر بھی حیران کن طور پر یہ دونوں احباب کسی بھی قسم کی تحقیقات کروانےکے بجائے پردہ ڈال رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ہیڈ تونسہ اور کالا باغ کے مقام پر جناح بیراج کی ڈاؤن سٹریم میں بھی اسی طرح کی دیواریں بنائی گئیں مگر وہ ہیڈ سے 900 فٹ دور تھیں مگر ہیڈ پنجند کے مقام پر ہیڈ کے گیٹوں سے صرف 90 فٹ کے فاصلے پر ڈاؤن سٹریم کنکریٹ وال بنا دی گئی جو سیلابی پانی کو آگے لے جانے کے بجائے واپس دھکیلتی رہی اور لاکھوں لوگ کھربوں روپے کی املاک سے ہاتھ دھو بیٹھے۔







