نگران دور حکومت میں نشترہسپتال ری ویمپنگ، اے سیز و دیگر اشیا غائب

ملتان (وقائع نگار)نگران حکومت کے دور میں نشتر ہسپتال ملتان میں ری ویمپنگ کے نام پر سینکڑوں فعال اے سیز، پنکھے، بیڈز، ایگزاسٹ فین اور بنچز غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر ہسپتال نے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب کو ہنگامی بنیادوں پر آڈٹ کرانے کی درخواست کر دی ہے، ایم ایس نشتر ہسپتال کی جانب سے سپیشل سیکرٹری آپریشنز پنجاب کو لکھے گئے مراسلہ میں انکشاف کیا ہے کہ 15 مئی 2025ء کو عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہسپتال کو اے سیز اور ضروری سامان کی سنگین قلت کا سامنا ہے، سینکڑوں فعال اے سیز اور دیگر قیمتی اشیاء وارڈز اور دفاتر سے نکال کر سٹورز میں جمع کرا دی گئیں اور بعد ازاں انہیں کنڈم قرار دے دیا گیا ،خط میں کہا گیا ہے کہ اب روزانہ مختلف شعبے اے سیز اور دیگر اشیاء کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن سٹور حکام ہر بار جواب دیتے ہیں کہ تمام سامان ناقابلِ استعمال قرار دیا جا چکا ہے، ایم ایس نے خط میں واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ نہایت مشکوک اور باعثِ تشویش ہے، لہٰذا فوری طور پر آزادانہ آڈٹ ٹیم مقرر کی جائے تاکہ اصل صورتحال سامنے لائی جا سکے۔ مزید کہا گیا ہے کہ آڈٹ ٹیم اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے نشتر ہسپتال کو فراہم کیے گئے تمام سامان کا ریکارڈ بھی حاصل کرے۔ذرائع کے مطابق ایم ایس کا مراسلہ سیکرٹری حکومت پنجاب، کمشنر ملتان ڈویژن، وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور پرنسپل نشتر میڈیکل کالج سمیت متعلقہ حکام کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ادھر ہسپتال کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر معاملے کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو قیمتی سامان کے ضیاع اور مبینہ خوردبرد کا خدشہ مزید گہرا ہو جائے گا۔جبکہ طبی حلقوں اس صورت حال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔کیونکہ ری ویمپنگ کا کام زیادہ تر ڈاکٹر کاظم کے دور میں ہوا ہے اور اسوقت اس کے قریب تین ایسے ڈاکٹرز تھے ۔جو اپنے ہمہ قسم کے کاموں میں اپنی مثال آپ تھےاور انکا کوئی ثانی نہیں تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں