کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی کو 38 فیصد سے کم کر کے 3.2 فیصد تک لانا اسٹیٹ بینک کے مؤثر اقدامات کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسٹیٹ بینک میں پرچم کشائی کی تقریب ہوئی، جہاں گورنر نے قومی پرچم لہرایا اور تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مئی 2023 میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم تسلسل کے ساتھ کیے گئے اقدامات سے یہ مئی 2024 میں 11.8 فیصد اور جون 2025 میں تاریخی کمی کے ساتھ 3.2 فیصد پر آ گئی۔ گورنر کے مطابق اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد تک لایا اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے دائرے میں رکھنے پر توجہ مرکوز رکھی ہے تاکہ طویل مدتی معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
جمیل احمد نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مالی سال 2023 کے آخر میں 4.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 کے اختتام تک 14.5 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ اس میں 2.1 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر ترسیلات نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ یہ اضافہ غیر ملکی قرض میں کسی اضافے کے بغیر حاصل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے۔ ڈیجیٹل مالی شمولیت کے اقدامات میں ’راست‘ کو ایک ذیلی ادارے کے طور پر قائم کرنا، جدید ادائیگی کے نظام، اور برانچ میں جائے بغیر اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت شامل ہیں، جو خاص طور پر خواتین کے لیے فائدہ مند ہوگی۔
یومِ آزادی کی تقریب کا اختتام ’زندگی ٹرسٹ اسکول‘ کے طلبہ کے قومی نغموں سے ہوا، جبکہ گورنر نے خصوصی ضروریات کے حامل فنکاروں کی نمائش ’پاکستان کی خوبصورتی‘ کا افتتاح بھی کیا، جو نوجوان فنکاروں کی تخلیقی صلاحیت کا مظہر تھی۔ اس موقع پر دیگر نمائشوں میں ’Echoes of Freedom through Archival Lens‘ اور ’پاکستان کے شہپر‘ بھی شامل تھیں۔
