خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا

تازہ ترین

سول ملٹری ٹرائل کیس: غیر متعلقہ شخص پر فوجی قوانین کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ آئینی بینچ کا سوال

سپریم کورٹ نے 45 سال بعد نئے رولز 2025 جاری کر دیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 45 سال بعد نئے قوانین ’’سپریم کورٹ رولز 2025‘‘ نوٹیفائی کر دیے ہیں، جن کے تحت پرانے 1980 کے رولز کو ختم کر دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز اور مختلف ایسوسی ایشنز سے تجاویز حاصل کیں۔ نئے رولز 6 اگست سے نافذ العمل ہوں گے۔
نئے قوانین کے تحت پرانے رولز میں زیر التوا درخواستیں، پٹیشنیں، اپیلیں، ریفرنسز اور نظرثانی کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں مکمل کیا جائے گا، گویا نئے رولز کا اطلاق ان معاملات پر نہیں ہوگا
چیف جسٹس کسی بھی دشواری کی صورت میں اپنی بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ہدایات جاری کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ نئے رولز کے خلاف نہ ہوں۔
نئے رولز کے مطابق، فوجداری اپیل دائر کرنے کی مدت اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیلیں 14 دن میں دائر کی جائیں گی، جبکہ نظرثانی کی درخواستیں 30 دن کے اندر دائر کرنا لازمی ہوں گی۔
درخواست گزار کو نظرثانی کے لیے فریق مخالف کو فوری نوٹس دینا ہوگا اور رجسٹری کو اس نوٹس کی تصدیق شدہ کاپی جمع کروانا ہوگی۔ نظرثانی کی درخواست کے ساتھ متعلقہ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی بھی جمع کرانی ہوگی۔
اگر درخواست تازہ شواہد کی بنیاد پر ہو تو اس کے ساتھ دستاویزات کی مصدقہ کاپیاں اور حلف نامہ بھی شامل ہوگا جس میں نئے شواہد کی تفصیل ہو گی۔
ایڈوکیٹ یا درخواست گزار کو نظرثانی کی بنیاد پر مختصر وضاحت بھی دینی ہوگی، اور اگر عدالت سمجھے کہ درخواست غیر سنجیدہ یا پریشان کن ہے تو دائر کرنے والے کو تادیبی کارروائی اور 25 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اگر درخواست فریق کی طرف سے دائر کی گئی ہو اور غیر سنجیدہ ہو تو وہ بھی اسی جرمانے کا ذمہ دار ہوگا۔
نظرثانی کی درخواست اسی بینچ کے سامنے دیکھی جائے گی جس نے اصل فیصلہ دیا تھا، یا اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو بینچ کے دیگر ججز اس کی سماعت کریں گے۔
مزید یہ کہ جیل میں رہنے والے افراد کے لیے درخواست دائر کرنے پر کوئی کورٹ فیس نہیں ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں