تحریر:عارف حسین ٹھاکر
میں ایک خبر کی تصدیق کیلئے مزنگ پولیس اسٹیشن جا رہا تھا کہ اچانک میری نظر ویگن کے انتظار میں کھڑی پریشان حال لڑکی پر پڑی جس کے اردگرد کھڑے تین آوارہ لڑکے اس اکیلی لڑکی کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف آنے کو اشارہ کیا۔ تینوں آوارہ لڑکے موقع پا کر اکیلی لڑکی کے قریب آنا شروع ہوئے تو یہ لڑکی چند ہی لمحوں میں میرے پاس آ کر خاموش کھڑی ہو گئی۔ میں نے اس لڑکی سے پوچھا یہ تینوں لڑکے کون ہیں۔ لڑکی نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا معلوم نہیں جس پر میں اسے لیکر اپنے اخبار کے دفتر آ گیا اسے پانی کا گلاس دیا اور پوچھا تم اکیلی سڑک کنارے کھڑی کیا کر رہی تھی اس نے کہا میں اخبار کے دفتر کی تلاش میں راستہ بھول کر سوچ رہی تھی کہ میں کہاں جائوں کس سے اخبار کے دفتر کے بارے میں معلوم کروں۔ ابھی میں اسی پریشانی میں پڑی سوچ رہی تھی کہ ان تینوں لڑکوں نے مجھے اکیلی دیکھ کر تاڑنا شروع کر دیا جس سے میں گھبرا گئی اور اسی لمحے میں آپ نے مجھے سہارا دے دیا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ میں نے اس لڑکی کو کہا جس اخبار کے دفتر کی آپ کو تلاش تھی یہ اسی اخبار کا دفتر ہے تو لڑکی نے ہاتھ اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا۔
لڑکی نے بتایا کہ ہمارے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے۔ میری دو چھوٹی بہنیں اغوا کر لی گئی ہیں۔ ان کو تلاش کر کے ہماری مدد کی جائے۔ میں نے لڑکی کی تمام کہانی سنی مگر اس کی باتوں پر بہت حیرت ہوئی اور یقین نہیں آیا۔ لہٰذا میں نے لڑکی پر ہونے والے ظلم کی تصدیق کرنے کیلئے اس کے گھر کاپتہ لیکر رکھ لیا اور اتوار کے دن میں دفتر سے فارغ ہو کر اس لڑکی کے گھر واقع غازی آباد چلا گیا۔ لوگوں سے دریافت کیا کہ شریف مستری کہاں رہتا ہے اس مستری کی تین جوان بیٹیوں کی وجہ سے محلے کے آوارہ لڑکے اس کے گھرسے بخوبی آگاہ تھے۔ لہٰذا گھر کی تلاش میں زیادہ تکلیف نہیں ہوئی جیسے ہی میں اس مستری کے گھر جانے کیلئے اس گلی میں آیا تو مستری کے گھر کے باہر دو سفید کپڑوں میں ملبوس افراد جو شکل سے پولیس والے لگتے تھےاور اس کے گھر کے اردگرد چکر لگا رہے تھے جیسے ہی میں اس مستری کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اُن دونوں نا معلوم افراد نے مجھے اپنی جانب مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کس کی تلاش میں یہاں آئے ہیں۔ میں نے کہا میں مستری شریف کے گھر کی تلاش میں آیا ہوں۔ ابھی میں ان لوگوں سے ہی بات کر رہا تھا کہ مستری کے گھر کے اندر سے وہی لڑکی باہر آئی جس نے مجھے گھر کا پتہ دیا تھا اور اس لڑکی نے ان دونوں افراد کو دیکھ کر کہا یہ دونوں پولیس والے ہیں اور مجھے ہر روز تھانےلے جانے پر مجبور کرتے ہیں اور جب میں تھانے جاتی ہوں تو مجھے تھانے میں گھنٹوں بٹھا کر مجھ سے گندے گندےمطالبات کرتے ہیں۔ مجھے دیکھ کر دونوں پولیس والوں نے اپنا راہ لیا۔ لڑکی نے دروازہ کھول کر مجھے گھر کے اندر آنے کو کہا جیسے ہی میں گھر کے اندر داخل ہوا دوپہر کے دو بجے کے قریب مٹی کے کچے فرش پر بیٹھ کر بدن سے ننگا چار سالہ بچہ ایک سوکھی روٹی ہاتھ میں پکڑ کر پانی سے بھرے برتن میں ڈال کر اس میں روٹی بھگو کر کھا رہا تھا اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں دوسرے کمرے کے طرف چلا گیا۔جس کی چھت نہیں تھی اورچھت کی جگہ موٹا ترترپال پڑا ہوا تھا ایک چار پائی پر بیٹھی اس شدید گرمی میں پسینے سے شرا پور تقریبا آخری ایام کے دنوں میں پیٹ سے خاتونن اس لڑکی کی والدہ لگ رہی تھی اس گھر کی مفلسی اور بیچارگی الگ الگ کہانی بتا رہی تھیں بہر حال میں نے اپنی صحافتی ذمہ داری پوری کی تمام تفصیلات اکٹھی کیں اور اس گھر کی غربت اور لاچارگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی جیب سے پانچ سو روپے نکال کر اس ننھے بچے کو دیکر خود تھانہ غازی آباد چلا گیا۔ تفتیشی آفیسر سے معلومات لیں تو تفتیشی سب انسپکٹر نے اغوا کے اس کیس میں کسی بھی ملزم کو نہیں پکڑا بلکہ انسپکٹر اس کیس کی پیروی کرنے والی مدعیہ کو اکیلے میں ملنے کی خواہش ظاہر کرتا رہا جب اس لڑکی نے انسپکٹر کی خواہش پوری کرنے سے انکار کر دیا تووہ اوچھے ہتھکنڈوں پر آ گیا اور تفتیش میں اغواء ہونے والی لڑکیوں کو آوارہ قرار دے دیا گیا جب متعلقہ ایس پی سے رابطہ کیا تو وہ بھی انتہائی ڈھٹائی سے انسپکٹر کی بے بنیاد کہانی سن کر مظلوم خاندان کو آوارہ بنا کر قانونی کارروائی ملزمان کے حق میں لکھ کر اس کیس کی تفتیش کا رخ تبدیل کر کے اس کیس کو الجھا کر ردی کی ٹوکری کی نذر کر رہا تھا۔
میں نے جب اس کیس کو اپنے راویئے سے دیکھا اور لوگوں سے اس تمام وقوعہ کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا شریف راج گیری کا کام کرتا ہے۔ کبھی اس کو کام ملتا ہے کبھی نہیں جس سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے۔ اس کے 13 اور 15 سالہ دونوں بیٹے بھی کہیں کام کر کے گھر کے اخراجات میں باپ کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ شریف کے گھر سے دائیں جانب واقع ایک گھر میں اس کی 12 اور 13 سالہ دونوں بہنیں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے جاتیں تھیں اور روٹین کے مطابق دو گھنٹے کے بعد گھر واپس آ جاتی تھیں ایک دن جب یہ دونوں بہنیں گھر واپس نہ آئیں تو شریف کے گھر والوں کو پریشانی لا حق ہوئی۔ جب ان گھر والوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا یہاں سے دونوں بہنیں ہر روز کی طرح اپنے گھر واپس جا چکی ہیں۔ محلے داروں، رشتے داروں کے علاوہ اور ہر جاننے والوں سے شریف کے گھر والوں نے اپنی بچیوں کے بارے میں دریافت کیا مگر ان معصوم دونوں بہنوں کا کہیں پتہ نہ چل سکا۔ ان دونوں بہنوں کو اپنے گھر کے علاوہ کوئی اور راستہ معلوم نہیں تھا۔ قیامت کی رات شریف کے گھر والوں نے آنکھوں آنکھوں میں کیسے گزاری اللہ ہی جانتا ہے مگر دوسری صبح ہوتے ہی شریف کی تیسری حافظ قرآن بیٹی صائمہ بہنوں کی تلاش میں برقعے کا پلو سر پر رکھ کر نیم پاگلوں کی طرح محلے کی گلیوں کی خاک چھانتے قریبی پولیس تھانے جا پہنچی ۔تمام حالات واقعات کو جاننے کیلئے محرر کے اردگرد بیٹھے قانون کے محافظوں نے صائمہ کو درخواست لکھنے کو کہا لیکن اس حافظ قرآن بچی نے صرف دینی تعلیم ہی حاصل کی ہوئی تھی لہٰذا پولیس والوں نے اس جواں اور خوبصورت 17 سالہ لڑکی کو خونخوار آنکھوں سے دیکھتے شیطانی طرز و عمل کے متعدد سوالوں کا سلسلہ شروع کر دیا جس کے جواب میں صائمہ نے دوپٹے کا پلو منہ پر رکھ کر ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا۔
قانون کے رکھوالوں نے دونوں بہنوں کے اغواء کی اس درخواست کو تحریر کر کے رسمی جملہ اپناتے ہوئے کہا کل صبح تمہیں دوبارہ بڑے صاحب کے پاس پیش ہونے کیلئے آنا ہو گا۔ اس طرح بہنوں کی تلاش میں اس صائمہ کو اس تھانے کے چکر لگاتے ہوئے ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا مگر ان کا کہیں سراغ تک نہ ملا بلکہ جواں سالہ دوشیزہ کو غربت کے عالم میں ایک نئی دنیا میں قدم رکھنا پڑ گیا ۔جہاں اسے ہر روز ایک نئے امتحان سے گزرنا پڑتا تھا مگر پولیس والوں نے اس بہن کی فریاد کو مذاق بناتے ہوئے اس مزدور شریف کے تمام اہل خانہ کو بد کردار کا لقب دے دیا۔(جاری ہے)
اپنی دو بہنوں کے اغواء کی اس درخواست کو پاؤں لگانے کیلئے صائمہ کو تفتیشی کے پاس بار بار آ کر ہر دن ایک نئی پیشی بھگتنی پڑتی مگر ملزمان کے گھر میں جا کر کسی نے ان کو پوچھا تک نہیں کہ آپ کے گھر میں قرآن کی تعلیم لینے کیلئے آنے والی دونوں بہنیں کہاں ہیں پھر ایک دن اسی تھانے میں سے ہی کسی درد دل رکھنے والے کانسٹیبل نے اپنی بہنوں کی تلاش میں ہر روز تھانے کے چکر لگانے والی صائمہ کو ہمارے اخبار کے دفتر جانے کا مشورہ دیا۔ صائمہ کی اس قیامت خیز داستان کو جب میں نے اپنے اخبار میں شائع کیا تو متعلقہ تھانے والوں نے اس مظلوم گھرانے کو انصاف دینے کی بجائے خوف و ہراس میں ڈال کر منہ بند کرنے کا کہنا شروع کر دیا۔ صائمہ کی زبانی اخبار میں شائع کرنے والے رپورٹر کے ساتھ صائمہ کے ساتھ ناجائز تعلقات کو جوڑ کر متعلقہ تھانے والوں نے اس کہانی کو نیا رنگ دے دیا۔ حتی کہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسران نے بھی متعلقہ تھانے کے عملے کی من گھڑت کہانی کو طوطے کی طرح دھرنا شروع کر دیا۔
جب رپورٹر نے اس مظلوم گھرانے کی فریاد کو لیکر آئی جی پنجاب سے رابطہ کیا تو اس کیس کو پاؤں لگ گئے ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ جس پر متعلقہ تھانے کی پولیس نے اغواء کرنے والے ملزمان پر زور ڈالا تو دوسرے ہی دن غازی آباد کی پولیس نے اغواء ہونے والی دونوں بہنوں کو ڈرائی انداز میں برآمد کر کے صائمہ کے حوالے کر دیا۔ میں نے اس کیس کی اصل حقیقت کو جاننے کی کوشش کی تو تھانہ غازی آباد کی پولیس کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا۔ برآمد ہونے والی دونوں بہنوں نے بتایا کہ ہم حسب معمول قرآن پاک پڑھنے کیلئے اپنے ہمسائیوں کے گھر جاتی تھیں ایک دن ان کے گھر میں بڑی سی گاڑی میں ایک خاتون آئی اور یہ خاتون ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئی ہم دونوں بہنوں کو بڑے غور سے دیکھنے لگ گئی دوسرے دن پھر یہی خاتون دوبارہ آئی اس وقت ہمیں بھی میٹھا پانی پینے کو دیا گیا اور جب ہمیں ہوش آیا تو ہم دونوں بہنیں ایک خوبصورت کمرے میں تھیں پھر ہر روز ہمیں زبردستی کسی نہ کسی شخص کے سامنے پیش کر دیا جاتا کافی دن یہ چلتا رہا اور جب ہم گھر جانے کو کہتیں تو ہمیں پولیس کے خوف سے ڈرایا جاتا۔ بس ہمیں ہر رات کسی نہ کسی کے ساتھ رات گزارتی پڑتی تھی کافی دٓنوں کے بعد ایک دن اس گھر میں سب لوگ پریشان دکھائی دے رہے تھے اسی دن ان گھر والوں نے ہم دونوں بہنوں کو گاڑی میں ڈال کر مینار پاکستان کے باغ میں چھوڑ دیا پھر تھوڑی دیر کے بعد ہمیں کچھ آدمیوں نے مینار پاکستان کے باغ سے پکڑ کر ایک تھانے لے آئے اس تھانے کی پولیس نے ہمیں کسی اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ پھر ہمارے گھر والے ہمیں تھانے سے لیکر گھر آگے
اخبار نویس نے شریف کے گھر والوں کو لیکر آئی جی کے سامنے پیش کیا تو آئی جی میجر ضیاء الحسن نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن رانا اقبال کی ڈیوٹی لگائی کہ ان افراد کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے۔ جب اس مظلوم گھرانے کو میں ساتھ لیکر ڈی آئی جی رانا اقبال کے آفس پہنچا تو مجھے اور میرے ساتھ آنے والے مظلوم گھرانے کو بڑا پروٹوکول دیا گیا۔ جب اس کیس کے حوالے سے متعلقہ تھانے غازی آباد کے عملے کو بلوا کر ڈی آئی جی کے سامنے پیش کیا گیا تو تھانہ غازی آباد پولیس کا ایک افسر میرے ہی سامنے مظلوم خاندان کو گھورنا شروع ہو گیا۔ جب میں نے اس پولیس افسر کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا جناب میرا نام عارف حسین ہے اور آپ نے میری کردار کشی کی ہے لیکن آج کے بعد میں آپ کو بہت یاد آیا کروں گا آپ کو اس بات کا اندازہ ہو گا کہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا خدا ہوتا ہے۔ ڈی آئی جی رانا اقبال کی یہ آخری نوکری تھی اور انہوں نے اسی ماہ ریٹائرڈ ہو جانا تھا۔ انہوں نے میرے سامنے اس کیس کی انکوائری لگا کر ذمہ دار پولیس والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا۔ دوسرے دن گیلانی نامی ڈی ایس پی نے مجھے اپنے دفتر میں طلب کر لیا اور میرے ساتھ پولیس والی کارروائی ڈالنے کی کوشش کی۔ پہلے تو میں خاموش ہو کر اس ڈی ایس پی کی گفتگو سنتا رہا پھر میں نے جب پولیس کیخلاف ہونیوالی انکوائری کی فائل کو ڈی ایس پی کی میز سے اٹھایا تو جناب میری شکل دیکھ کر مجھے کہتے ہیں کسی بھی طریقے سے ان کو معاف کر دو جس پر میں نے کہا جناب اب کورٹ میں ملیں گے۔ پھر مجھے لاہور کے بااثر لوگوں سے مجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی لیکن لاہور میرا شہر ہے میرے اس شہر میں کسی بھی شریف آدمی کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں ہیں بلآخر ان پولیس والوں کو سزا ضرور ملی میں تو محکمہ پولیس میں بدنام ہی تھا لیکن اس وقت میری ماں زندہ تھی جو اپنے اور میرے خدا کے سامنے سجدہ زیر رہتی اللہ حق کے ساتھ رہتا ہے پس حوصلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔







