ملتان (قوم ریسرچ سیل) پاکستان ریلویز ملتان ڈویژن میں روزنامہ قوم کی طرف سے بے قا عد گیو ں اور بدعنوانی کی نشاندہی پر متعدد افسران کے تباد لے کر دیئے گئے مگر ابھی تک ڈی ایس شیخ ذوالفقار اپنی ڈویژن میں بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں اور افسران کی پشت پناہی کرنے اور انہیں بچانے کے لیے سرگرم ہیں۔ انسپکٹر آف ورکس عثمان اعجاز اور پی آئی ڈبلیو عمران بشیر کے تبادلے کے بعد ڈی ای این تھری ناصر حنیف کو بھی لاہور ہیڈ کوارٹر تبدیل کر دیا گیا جبکہ مرتضیٰ آصف کو ڈی ای این تھری ملتان ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ریلوے ملتان ڈویژن میں عرصہ دراز سے بدعنوانی، سرکاری زمینوں پر قبضے، گھوسٹ ملازمین، ٹی ایل ملازمین کی تنخواہوں میں ہیر پھیر اور ملازمین کے تبادلوں میں رشوت کی شکایات تھیں جن کی نشاندہی روزنامہ قوم نے کی تو ان امور کی تحقیقات کے نتیجے میں متعدد افسران اور ملازمین کو تبدیل کیا گیا۔شیخوان سیکشن کام کرنے والے انسپکٹر آف ورک عثمان اعجاز کا تبادلہ خانیوال کر دیا گیا۔ اسی طرح گھوسٹ ملازمین کی پشت پناہی کرنے والے پی ڈبلیو آئی عمران بشیر جو ٹی ایل ملازمین کی تنخواہوں کے ہیر پھیر میں ملوث تھے، کا تبادلہ کوٹ ادو سے جھنگ کر دیا گیا۔ تاہم ڈی ایس شیخ ذوالفقار بدعنوان ملازمین کو تحفظ دینے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے، عثمان اعجاز نے ریلوے کی قیمتی زمین، بشمول کمرشل اور زرعی رقبوں پر قبضے کروائے اور قبضہ مافیا کی مکمل سرپرستی کی۔ اگرچہ عثمان اعجاز کا تبادلہ ہو چکا تھامگر ناصر حنیف عثمان اعجاز کو ریلیف دے رہے تھے۔ روزنامہ قوم کی مسلسل نشاندہی پر بالآخر ناصر حنیف کو بھی تبدیل کرکے لاہور ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جس کا حوالہ آڈر نمبر 940-E-5/2 مورخہ 30 جولائی ہے۔اسی طرح خانیوال برج حادثے میں معطل ہونے والے ڈی ای این ون عابد رزاق کی جگہ بدالدین عارفین کو نیا ڈی ای این ون تعینات کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ناصر حنیف نے اپنے ایک عزیز کو بہاولپور میں بند ٹریک پر تعینات کروایا تھا، جہاں وہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہا تھا۔ ریلوے ذرائع کے مطابق عثمان اعجاز کے تبادلے کے بعد اس نے کئی دن تک نئی جگہ پر حاضری نہیں دی تو روزنامہ قوم کی نشاندہی پر چارج کا لین دین کیا گیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر کے منسٹری آف ریلوے کے ایک سٹاف افسر کے پاس ریلوے ریسٹ ہاؤس کا ایک کمرہ 2022 سے قواعد و ضوابط کے برعکس زیر استعمال ہے جس بارے معلوم ہوا ہے کہ نہ ہی وہ اس کا سرکاری طور پر رینٹ ادا کرتے ہیں اور نہ ہی بجلی کا بل۔ موجودہ ڈی ایس شیخ ذوالفقار ان سے یہ کمرہ خالی کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔







