مودی کے جنگی جنون سے خطے کا امن خطرے میں، پاکستان کی امن پسندی برقرار

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھارت کے جنگی عزائم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیچھے بھارت کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
جنوبی ایشیا میں امن کے موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور پہلگام واقعے میں پاکستان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 90 ہزار سے زائد قربانیاں دے کر دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے کاکول میں کھل کر کہا کہ اگر بھارت چاہے تو ہم پہلگام واقعے کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں، لیکن مودی حکومت نے جارحیت کا راستہ چنا۔ پاکستان نے غیر ملکی صحافیوں کو وہ تمام مقامات دکھائے جن پر بھارت کی طرف سے الزامات لگائے جا رہے تھے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن ہماری یہ خواہش کمزوری نہ سمجھی جائے۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں پر بھی شدید اعتراض کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا کوئی ملک یکطرفہ طور پر بین الاقوامی معاہدہ ختم کر سکتا ہے؟
قبل ازیں پالیسی ڈائیلاگ میں سابق سیکرٹری خارجہ جوہر سلیم نے کہا کہ بھارت نے اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں جارحیت میں اضافہ کیا ہے اور خطے میں کشیدگی پھیلائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مذاکرات اور امن پر مبنی رہی ہے۔
سابق مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ مشاہد حسین نے کہا کہ مودی حکومت کی غلط حکمت عملی کے باعث بھارت کو عسکری، سیاسی اور سفارتی محاذوں پر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بنتے اتحاد جنوبی ایشیا میں نئی طاقت کا اشارہ دے رہے ہیں۔
مشاہد حسین نے کہا کہ مودی اور آر ایس ایس کی سوچ پاکستان دشمنی پر مبنی ہے، مگر پاکستان ان حالات میں اپنی اسٹریٹیجک حیثیت کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں