ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر غزہ میں بھوک اور قحط کی ہولناکی تسلیم کر لی
Post Views:125
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں شدید بھوک اور قحط کی کیفیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد جاری بیان میں ٹرمپ نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ میں خوراک کی فراہمی یقینی بنائے، کیونکہ بروقت امداد سے کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ امدادی اشیاء کی ترسیل کی ذمہ داری اسرائیل پر ہے، لیکن غزہ کے شہری اب بھی بنیادی غذائی اشیاء سے محروم ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی پالیسی میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہوئے موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی کی اپیل کی۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی پر بھی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر انہوں نے مداخلت نہ کی ہوتی تو دنیا اس وقت چھ مختلف جنگوں کی لپیٹ میں آچکی ہوتی۔ ادھر عالمی ادارہ صحت (WHO) کا کہنا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت انتہائی تشویشناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ ایک دن میں 63 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں 6 افراد صرف بھوک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ اب تک قحط کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 133 ہو چکی ہے جن میں 87 معصوم بچے شامل ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کے باعث غزہ کے پانچ لاکھ فلسطینی قحط کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔
تازہ ترین
میرا کے متنازع انٹرویو پر تنقید، ارشاد بھٹی کا وضاحتی بیان سامنے آگیا
ایران کو ناکہ بندی سے روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان، ٹرمپ کا دعویٰ
پیرافورس اہلکار کا مافیا سے مبینہ گٹھ جوڑ ، قبضہ کی کوشش میں اسلحہ سمیت قابو
سارک کی بحالی: علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹیں اور امکانات
نشتر ہسپتال کا مالی بحران: جنوبی پنجاب میں صحت کی سہولیات سے کھلواڑ
امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈلاک
جنم، قلم اور اظہار الم
مذاکرات: امریکی وفد کی آمد، ایران بھی مان گیا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر غزہ میں بھوک اور قحط کی ہولناکی تسلیم کر لی
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں شدید بھوک اور قحط کی کیفیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد جاری بیان میں ٹرمپ نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ میں خوراک کی فراہمی یقینی بنائے، کیونکہ بروقت امداد سے کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ امدادی اشیاء کی ترسیل کی ذمہ داری اسرائیل پر ہے، لیکن غزہ کے شہری اب بھی بنیادی غذائی اشیاء سے محروم ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی پالیسی میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہوئے موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی کی اپیل کی۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی پر بھی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر انہوں نے مداخلت نہ کی ہوتی تو دنیا اس وقت چھ مختلف جنگوں کی لپیٹ میں آچکی ہوتی۔
ادھر عالمی ادارہ صحت (WHO) کا کہنا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت انتہائی تشویشناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ ایک دن میں 63 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں 6 افراد صرف بھوک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔
اب تک قحط کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 133 ہو چکی ہے جن میں 87 معصوم بچے شامل ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کے باعث غزہ کے پانچ لاکھ فلسطینی قحط کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔
شیئر کریں
:مزید خبریں
میرا کے متنازع انٹرویو پر تنقید، ارشاد بھٹی کا وضاحتی بیان سامنے آگیا
ایران کو ناکہ بندی سے روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان، ٹرمپ کا دعویٰ
پیرافورس اہلکار کا مافیا سے مبینہ گٹھ جوڑ ، قبضہ کی کوشش میں اسلحہ سمیت قابو
سارک کی بحالی: علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹیں اور امکانات
نشتر ہسپتال کا مالی بحران: جنوبی پنجاب میں صحت کی سہولیات سے کھلواڑ
امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈلاک