چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں! اتحادی جماعت یو ٹی جے نے ساتھ چھوڑ دیا

تل ابیب:اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو اس وقت شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے جب ان کی اہم اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم یو ٹی جے نے مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق جماعت کی علیحدگی کی بنیادی وجہ مذہبی طلبہ کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کے قانون پر اختلافات ہیں، جسے الٹرا آرتھوڈوکس جماعتیں کافی عرصے سے منظور کروانا چاہتی تھیں۔
یو ٹی جے (UTJ) کے ایک رکن پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے، اب جماعت کے بقیہ چھ ارکان کی علیحدگی کے بعد کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں نیتن یاہو کو صرف ایک نشست کی معمولی برتری حاصل رہ گئی ہے۔
صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اگر 11 نشستوں کی حامل اتحادی جماعت شاس پارٹی بھی حکومت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے، ایسی صورت میں نیتن یاہو کی حکومت گرنے کا قوی امکان ہے۔
یہ سیاسی بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو پہلے ہی داخلی خلفشار، اقتصادی دباؤ اور ایران و غزہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں