چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

نیتن یاہو کی مشروط جنگ بندی: اگر شرائط نہ مانیں تو طاقت سے منوائیں گے

یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مستقل فائر بندی کے امکانات پر بات چیت کی جائے گی، تاہم خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کی شرائط پوری نہ ہوئیں تو ان پر زور زبردستی سے عمل کرایا جائے گا۔
اپنے حالیہ بیان میں نیتن یاہو کا کہنا تھا، “اگر ان 60 دنوں کے اندر حماس نے ہتھیار نہ پھینکے، غزہ کی حکمرانی سے دستبردار نہ ہوئی اور اپنی عسکری صلاحیت ختم نہ کی، تو ہم ان شرائط کو زبردستی نافذ کریں گے، چاہے طاقت کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔”
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقل جنگ بندی صرف ان تین شرائط کی تکمیل پر ہی ممکن ہے، اور یہ اسرائیل کے لیے کسی صورت قابلِ ترمیم نہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے سلسلے میں بالواسطہ مذاکرات قطر میں جاری ہیں، جہاں امریکا، مصر اور قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین نیتن یاہو کے بیان کو ایک طرف سفارتی نرمی اور دوسری طرف دباؤ بڑھانے کی پالیسی قرار دے رہے ہیں، تاکہ مجوزہ جنگ بندی کے دوران حماس پر زیادہ سخت شرائط منوائی جا سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں