ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی سکروٹنی کمیٹیاور ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس ڈاکٹر محمد فاروق کی نا اہلی، غفلت اور اقربا پروری کے حوالے سے کچھ اور انکشافات سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق ایک سکروٹنی کے دوران انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیدہ نواز کی 16-08-2022 کو ہونے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر انٹرنیشنل ریلیشنز کی سکروٹنی جس میں ڈاکٹر عمر فاروق زین، ڈاکٹر طاہر اشرف، ڈاکٹر محمد فاروق اور رجسٹرار صہیب راشد شامل تھے کے دوران ڈاکٹر رفیدہ نواز کے جینڈر سٹڈیز میں لیکچرار کے تجربے کو شامل نہ کیا گیا جبکہ پبلیکیشنز بھی 10 میں سے 4 اور گزشتہ 5 سالوں میں 2 پبلیکیشنز ہونے کی بنا پر نا اہل کیا گیا۔ جبکہ ٹوٹل تجربہ بھی 12 سال 7 ماہ شمار کیا گیا۔ مگر اسی دن 16-08-2022 کو ایسوسی ایٹ پروفیسر پولیٹیکل سائنس کی سکروٹنی جس میں ڈاکٹر عمر فاروق زین، ڈاکٹر مقرب اکبر، ڈاکٹر شاہد حسین بخاری، ڈاکٹر محمد فاروق اور رجسٹرار صہیب راشد شامل تھے کے دوران ڈاکٹر رفیدہ نواز کے جینڈر سٹڈیز میں لیکچرار کے تجربے کو شامل کر لیا گیا اور ان کا تجربہ 15 سال شمار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پبلیکیشنز کو بھی 10 ظاہر کر کے ان کو ایسوسی ایٹ پروفیسر پولیٹیکل سائنس کے لیے اہل قرار دے دیا گیا۔ اس طرح کی نا اہلی و غفلت کہ ایک ہی دن کی سکروٹنی کے دوران ایک بار تجربہ شمار کرنا اور دوسری بار تجربہ شمار نہ کرنا بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی من پسند سکروٹنی کمیٹی اور ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس کی نا اہلی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر انٹرنیشنل ریلیشنز پولیٹیکل سائنس دونوں اسامیوں کی سکروٹنی کے منٹس میں چیئرمین سکروٹنی کمیٹی و ڈین پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق زین، ڈاکٹر شاہد بخاری اور ڈاکٹر طاہر اشرف کے دستخط سرے سے موجود ہی نہ ہیں جو کہ سکروٹنی کمیٹی اراکین کے اختلاف رائے کا ثبوت ہیں۔ سلیکشن پراسس میں امیدواروں کی اہلیت کے جائزے پر مبنی اعداد و شمار تیار کرنا رجسٹرار آفس اور ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس کے فرائض میں شامل ہے۔
