جنوبی پنجاب :پی ٹی آئی ٹکٹ عون بپی کے اشارے پر تقسیم ،کچھ لو،کچھ دو کی پالیسی

زندگی میں کبھی کونسلر منتخب نہ ہوسکنے والے عون عباس بپی ایم پی اے کی ٹکٹیں’’ بانٹنے‘‘میں مصروف،تحائف کاتبادلہ،الزامات شروع،ہارنے کے ڈرسےاپنے بھائی جمشیدبپی کوالیکشن لڑنے سے روک دیا

پارٹی فنڈکیلئے رقم نہ دینےپرمعتبرنام حسین جہانیاں گردیزی ٹکٹ سے محروم، قیصر مگسی کو اراضی پر قبضہ نہ کرانے کی سزا

ملتان (میاں غفار سے) سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان الیکشن 2023ء کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم میں وہی غلطیاں کر رہے ہیں جو انہوں نے 2013 اور 2018 میں کی تھیں اور اس طرح بھاری عوامی سپورٹ کو بد دل کر رہے ہیں۔ حیرت ناک امر یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کی ٹکٹیں عون عباس بپی تقسیم کر رہے ہیں اور یہ موصوف اپنی زندگی میں ایم پی اے تو درکنار کبھی کونسلر بھی منتخب نہیں ہوئے اور واقفان حال کے مطابق جو تحائف کا تبادلہ ہو رہا ہے سابق وزیراعظم عمران کی توشہ خانہ کی گھڑی اس کا عشیرعشیربھی نہیں کیونکہ یہ الزام پی ٹی آئی کے ورکر ابھی سے لگانا شروع ہو گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں انتخابی ٹکٹوںکیلئے موزوں امیدواروں کا انتخاب کرنے والے عون عباس بپی نے اپنے سگے بھائی جمشید عباس بپی کو بھی الیکشن سے منع کر دیا حالانکہ وہ دو سال سے تیاری کر رہے تھے۔ عون عباس کے قریبی ذرائع کے مطابق اگر جمشید بپی ہار گئے تو ان کا عمران خان کے سامنے سارا بھرم کھل جائے گا۔جنوبی پنجاب میں شرافت و ضعداری اور ایمانداری کے حوالے سے سب سے معتبر نام خانیوال کے حسین جہانیاں گردیزی کا تھا مگر ذرائع کے مطابق کئی مرتبہ وزیر رہنے والے حسین جہانیاں گردیزی کے پاس پارٹی فنڈ کے لیے رقم نہیں تھی۔ دوسری طرف قیصر مگسی جو کہ ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ سے 3 مرتبہ ایم پی اے رہ چکے ہیں بھی ٹکٹ سے محروم کر دیئے گئے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے لاہور کی عظمیٰ نامی کسی خاتون کے شوہر کی چوبارہ اور چوک اعظم میں خریدی گئی اراضی پر بار بار کہنے کے باوجود قبضہ لے کر نہیں دیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ اراضی پر قیام پاکستان سے قبل اور بعد سے درجنوں خاندان آباد ہیں جودہائیوں سے کاشت بھی کر رہے ہیں اور سرکاری قوانین کے مطابق الاٹمنٹ کا پہلا حق ان کا تھا۔ مگر لاہور کی خاتون کے شوہر نے 7 سے 8 لاکھ روپے فی ایکڑ والی اراضی صرف 80 سے 85 ہزار فی ایکڑ خریدی جو لیہ کے چند پٹواریوں اور رندھاوا نام کے ایک شخص نے جعلی کاغذات بنوا کر انہیں بیچ کر کروڑوں روپیہ آپس میں بانٹ لیا۔ اس ساری اراضی پر آباد کار موجود تھے جو باوجود کوشش سے 3 ہزار کنال زمین خالی نہ کرائی جا سکی۔ بتایا گیا ہے کہ عون عباس بپی نے بھی یہ اراضی خالی کرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ یاد رہے کہ وہاں عظمیٰ بی بی کے خاندان کی کل اوریجنل اراضی 2200 کنال جو کہ 11 مربع اراضی بنتی تھی اور اس میں سے 80 فیصد پر وہ قابضین بھی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ قیصر مگسی کو چوبارہ میں اس اراضی پر قبضہ نہ کرانے کی پاداش میں ٹکٹ سے محروم کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں