چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

چین کی ایران اسرائیل تنازع میں امریکی مداخلت کی مخالفت، طاقت کے استعمال کو مسترد کر دیا

بیجنگ: چین نے ایران اسرائیل تنازع میں امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا دھمکی دینا قابل قبول نہیں۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور اسے مزید بگاڑنے کے بجائے سیاسی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔
چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (CGTN) کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے روزانہ کی پریس کانفرنس میں بلومبرگ کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایران پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تو یہ اقدام مشرق وسطیٰ کو ایک اور بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ چین اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرنے والے ہر عمل کے خلاف ہے، خاص طور پر ایسے اقدامات جو کسی ملک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچائیں۔ چین عالمی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کے سخت خلاف ہے۔
گو جیا کھون نے عالمی برادری، بالخصوص بااثر ممالک پر زور دیا کہ وہ غیر جانبداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور مذاکرات و بات چیت کا راستہ دوبارہ کھولا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے حالات کو روکنا ناگزیر ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ خطہ بڑی تباہی کی زد میں آ سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں