ملتان (نیوز رپورٹر)شہر اولیامیں انسانی زندگی بچانے والی ادویات و انجکشن نایاب، مریضوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی جانیں بچانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے لگے، کمپنی منیجرز، ڈسٹری بیوٹرز اور میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کی ملی بھگت سے لائف سیونگ ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے انہیں بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ لالچ اور پیسے کی ہوس نے متعلقہ عناصر کو اس حد تک اندھا کر دیا ہے کہ وہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں موٹیلیم ٹیبلٹ، فریزیم، ٹیگرال، ڈیپو مڈرال انجکشن، امینو فائلین، انسولین، سٹریپٹو مائسین، امینول ڈرِپ اور کیٹا مین انجکشن سمیت متعدد اہم اور زندگی بچانے والی ادویات نایاب ہو چکی ہیںجنہیں بلیک میں کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ادویات کی مصنوعی قلت کی ایک بڑی وجہ بعض اہم دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری نہ ملنا اور اس کے برعکس دیگر درجنوں ادویات کی قیمتیں فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو از خود بڑھانے کی اجازت دیئےجانا بتایا جا رہا ہےجس کے نتیجے میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔عوامی حلقوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتھارٹی اس سنگین صورتحال کے تدارک میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ جاری اس مجرمانہ کھیل کو روکا جا سکے۔







