ملتان (سہیل چوہدری سے) بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار قواعد و ضوابط کی مسلسل دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہیں۔ سلیکشن بورڈ کے منٹس میں رد و بدل پر کئی شعبہ جات کے چیئرمین اور ڈائریکٹرز کو شدید تحفظات ہیں اور بعض پروفیسر حضرات کھل کر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ویٹرنری لینگویج سائنسز اور فارمیسی کے ڈین بھی سرعام گھپلوں کی نشاندہی کرتے پھرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ایک تو سلیکشن بورڈ ہی غیر قانونی اور اس پر ستم یہ کے نتائج بدل کر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو بلیک میل کرکے ان سے زبردستی دستخط کروائے جا رہے ہیں۔ انہیں دو ٹوک الفاظ میں وارننگ دی جا رہی ہے کہ جنہوں نے ہمارے سسٹم میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی وہ سیٹوں پر ہی نہ رہ سکےلہٰذابلا چون و چرا جہاں کہا جائے دستخط ہو جانے لازمی ہیں۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی انتظامیہ وائس چانسلر زبیر اقبال غوری، رجسٹرار اعجاز احمد اور ان کی نااہل ٹیم ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈائریکشن اور بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایکٹ کو بالائے طاق رکھ کر سنگین بے قاعدگیوں کی مرتکب ہو رہی ہے حالیہ تنازع ماضی قریب میں منعقد کیے گئے غیر قانونی سلیکشن بورڈ کے نتائج کی ردو بدل سے متعلق ہے، متعدد چیئرمین ڈائریکٹرز اور ہیڈ اف ڈیپارٹمنٹ نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری رجسٹرار اعجاز احمد پی ایس ٹو وائس چانسلر امین زاہد اور انچارج لیگل سیل محی الدین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مختلف مضامین کے متعدد ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کی ایویلوایش رپورٹس یونیورسٹی سیاست کے پیش نظر تبدیل کروا کے اساتذہ کے مستقبل سے کھیلتے ہوئے مبینہ طور پر کرپشن کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ فیکلٹی اف سائنس کے ہیڈ اف ڈیپارٹمنٹ نے پی ایس ٹو وائس چانسلر امین زاہد بارے میں انکشاف کیا ہے کہ یہ شخص اساتذہ کے مستقبل سے کھلواڑ کرتا ہے چونکہ غیر ملکی اور ملکی ماہرین کی جانب سے بھجوائی گئی ایویلوایشن رپورٹس بھی امین کی دسترس میں دے دی گئی ہیں اور یہ یونیورسٹی کے اساتذہ کے گروپس کے عہدے داران کے ساتھ قربت میں ہونے کی بنا پر ناکام و کامیاب امیدواروں کو سیاسی گروپس کی منشا کے مطابق سلیکشن بورڈ سے پہلے ہی اگاہ کر دیتا ہے۔ فارمیسی کے ایک ٹیچر نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ 2020 کے اشتہار میں سائیکالوجی کے ایک کیس میں ایویلیوایشن رپورٹس تبدیل کرائی گئیں اور سلیکشن جس کی ہونی تھی ان کا نام پہلے نمبر پر تھا ہی نہیں جبکہ گزشتہ ہفتے میں بی زیڈ یو کے متعدد شعبہ جات کے چیئرمین ڈائریکٹرز اور ہیڈ اف ڈیپارٹمنٹ نے حالیہ سلیکشن بورڈ نتائج میں رد و بدل پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے جب رجسٹرار آفس کا عملہ سلیکشن رزلٹ شیٹ پر دستخط کروانے پہنچا ۔اساتذہ گروپ کے سرکردہ رکن نے کہا ہے کہ شعبہ ایجوکیشن کی سلیکشن میں خواتین امیدواروں سے نا انصافی کی انتہا کر دی گئی ہے اور یہ اقدام براہ راست ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ کے ایک گروپ نے اس صورتحال پر پہلے مرحلے میں وائٹ پیپر شائع کرنے اور دوسرے مرحلے میں عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کم سے کم تین خواتین اساتذہ رپورٹس مثبت آنے کی بنا پر سلیکٹ ہونے کی حقدار تھی لیکن وائس چانسلر نے رجسٹرار کے کہنے پر مخصوص لابی کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے تمام سیٹیں دوبارہ مشتہر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ سنڈیکیٹ میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فنانس کے سیکرٹریٹ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نمائندے کے سلیکشن بورڈ پر اختلافی نوٹ کے بعد یہ سلیکشن بورڈ پہلے تو غیر قانونی طور پر منعقد کیا گیا اور اوپر سے سونے پہ سہاگہ کہ اس میں بھی شدید بے قاعدگیاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔







