ملتان(نمائندہ خصوصی)بغیر منصوبہ بندی اور ضروری آپریشنل انتظامات کے کراچی پشاور کراچی کے لئے چلائی گئی خوشحال خان خٹک ایکسپریس ریلوےحکام اور مسافروں کے لئےوبال جان بن کر رہ گئی ۔جیکب آباد کشمور،ڈیرہ غازی خان، لیہ ،بھکر،کندیاں،اسلام آباد ،پشاور کےمسافروں کو مذکورہ سیکشن پر ریلوے کے سفر سے توبہ کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ٹرین کی روزانہ14سے15گھنٹےتاخیر پر قابو پانے کے لئے خوشحال خان خٹک ایکسپریس کو کوٹری سٹیشن سے چلانے کا فیصلہ کرلیا گیاہے\۔5سال کےتعطل کےبعد24اپریل کوجیکب آباد،کشمور،ڈیرہ غازیخان،تونسہ،کوٹ ادو،لیہ،بھکر،کندیاں کے روٹ پر بحال کی جانے والی خوشحال خان خٹک ایکسپریس اپنی بحالی کے پہلے روز سے ہی مسائل کا شکار ہے۔بتایا جاتا ہے کہ روہڑی سے جیکب آباد ،کشمور تک ریلوے ٹریک کی حالت انتہائی خراب ہے۔ پورے سیکشن پر بغیر سلیپرز اور پتھر کے ریلوے ٹریک زگ زیگ حالت میں موجود ہے۔مذکورہ سیکشن پرٹرین کی حد رفتار20کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے باوجود اس کے اپنی بحالی کے دوسرے ہی روز ٹرین کی دو بوگیاں جیکب آباد کے قریب ریلوے ٹریک سے اتر گئی تھیں۔کراچی پشاور کراچی کے لئےایک ہی ریک استعمال کرنے کی وجہ سے ہر ایک دن کے بعد ٹرین کو چلایا جارہا تھا۔ اب ٹرین کی14گھنٹے سے زائد کی تاخیر کو کنٹرول کرنے کے لئے کوٹری سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے خوشحال خان خٹک ایکسپریس کے مسافروں کو فرید ایکسپریس کے ذریعے کوٹری پہنچایا جائے گا۔ اسطرح 173کلومیٹر کافاصلہ فرید ایکسپریس کے ذریعے طے کرنےسےخوشحال خان خٹک ایکسپریس کو 2گھنٹے کے وقت کی بچت ہوگی ۔فرید ایکسپریس کےکوٹری پہنچنے پر مسافر ایکبار پھر اپنا سامان، اہل و عیال کو اٹھا کراپنی ٹرین خوشحال خان خٹک میں شفٹ ہوں گےجو جیکب آباد کے راستہ اپنی منزل مقصود کے لئے روانہ ہوجائے گی۔ریلوےذرائع کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر مسافروں میں وزارت ریلوے کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہےجبکہ خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی موجودہ حالت میں مسافروں کو بھی ٹرین کے سفر سے متنفر کیا جارہا ہے۔ ریلوے ملازمین،مسافروں،سماجی سیاسی حلقوں نے وزیر ریلوےو دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے جیکب آباد کشمور سیکشن کو مکمل طور پر بحال کیا جائے اس کے بعد خوشحال خان خٹک ایکسپریس کو چلایا جائے تاکہ مسافروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







