خیرپور سادات: بگڑے رئیس زادوں کا قانون رکھوالا، مظلوم خاندان اللہ کے حوالے

خیر پور سادات (نامہ نگار) ہمارا من پسند رشتہ تم نے کیوں لیا، بگڑے رئیس زادوں کا فرسٹ ایئر کے سٹوڈنٹ پر وحشیانہ تشدد، 17 دانت توڑ دیئے۔ باپ اور والدہ چھڑانے کے لیے آئے تو با اثر زمینداروں نے انہیں بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا دیگر لوگوں نے آنے کی کوشش کی تو ملزمان نے فائرنگ کرکے خوف ہراس پھیلا دیا، پولیس تھانہ صدر علی پور نے با اثر زمیندار کے آگے کان پکڑ لئے، چار روز گزرنے کے باوجود نہ ایف آئی آر درج ہوئی نہ ہی ملزمان گرفتار ہوئے ابھی تک ڈاکٹر نے ایم ایل سی جاری نہیں کی، ڈی پی او مظفرگڑھ کے فوری انصاف کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تفصیلات کے مطابق علی پور تھانہ صدر کی حدود موضع بیٹ ملاں والی بستی اللہ یارئشکرانی کے محمد اکمل شکرانی نے اپنی بیٹی کا رشتہ اللہ بچایا شکرانی کے بیٹے عامر شکرانی کو دینے کی بات کی۔ کچھ عرصہ بعد اکمل نے اپنی بیٹی کا رشتہ غلام اکبر کے بیٹے اکرم سے طے کردیا اور وٹہ سٹہ میں اپنے بیٹے کیلئے اکبر کی بیٹی سے طے کرکے شادی کردی لیکن عامر کو رنجش تھی کہ اکرم نے میری منگیتر سے شادی کیوں کی جس نے اکرم کی زندگی اجیرن کردی۔ جس کی بابت کئی بار عامر کے والد اور دیگر لوگوں کو بتلایا گیا۔ گزشتہ روز فرسٹ ایئر کے سٹوڈنٹ محمد یونس نے عامر کو روکا کہ آپ ہمارے گھروں کے نزدیک آکر ہماری خواتین کو اشارے بازی کرتے ہیں یہ بری بات ہے۔ محمد یونس ایک نجی تعلیمی ادارے میں پیپر دے کر جارہا تھا کہ راستے میں عامر نے اپنے ساتھیوں سمیت یونس کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ موٹر سائیکل بھگا جانے میں کامیاب ہوگیا لیکن بستی کے نزدیک عامر کے رشتہ داروں نے ناکہ لگا کر یونس کو پکڑ لیا اتنے میں عامر بھی آگیا جس نے یونس پر آہنی راڈوں سے حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں محمد یونس کے 17 دانت ٹوٹ گئے۔ والد اور والدہ چھڑانے کیلئےآئے تو ملزمان نے انہیں بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسی اثنامیں تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے یونس بے ہوش ہو گیا۔ بستی کے دیگر لوگوں نے آگے آنے کی کوشش کی تو ملزمان نے فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلا دیا۔زخمی کی والدہ نے 15 پر کال کی تو پولیس تھانہ صدر نے آکر یونس کو ہسپتال منتقل کردیا اور بعد ازاں ایف آئی آر درج کرنےکے بجائے ایس ایچ او صدر آفتاب شبیر نے یونس کے والدین کو کہا کہ آپ راضی نامہ کرلیں بصورت دیگر یہی اسلحہ تمہارے بیٹے پر ڈال دوں گا ۔متاثرہ اکبر نے کہا کہ ابھی تک نہ تو آپ نے ایف آئی آر درج کی نہ ہمارے ملزمان کو گرفتار کیا جس پر ایس ایچ او آفتاب شبیر نے کہا کہ مجھے افسران کا جو حکم ہوگا میں وہی کرونگا، غلام اکبر نے کہا کہ ملزمان انتہائی با اثر لوگ ہیں۔ آج ڈی ایس پی علی پور بخت نصر نے ہمیں بلایا ہے کہ انکوائری ہے آپ دفتر آ جائیں۔ غلام اکبر نے روتے ہوئے کہا کہ جب ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تو انکوائری کس بات کی۔ متاثرہ محمد یونس نے اپنے والدین کے ہمراہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، آر پی او سجاد حسین خان، ڈی پی او مظفرگڑھ ڈاکٹر رضوان احمد خان سے ہاتھ جوڑ کر انصاف کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم خود سوزی کرلیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ایس ایچ او صدر آفتاب شبیر اور ملزمان پر ہوگی۔ جب ایس ایچ او آفتاب شبیر سے موقف لیا گیاتو انہوںنے کہا 107 دونوں فریق پر کردی ہے۔ میڈیکل رپورٹ آنے پر کارروائی کریں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں