دوسری شادی کے بعد بچے کی حوالگی ماں کو یا باپ کو؟ عدالت نے بڑا فیصلہ سنادیا

لاہور (نمائندہ خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احسن رضا کاظمی نے بچوں کی حوالگی سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض دوسری شادی کرنا ماں سے بچے کی تحویل چھیننے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے نازیہ بی بی کی درخواست پر چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بچوں کی حوالگی کے مقدمات میں اصل بنیاد بچے کی فلاح و بہبود ہونی چاہیے۔ عمومی طور پر بچوں کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے، اور دوسری شادی اس حق کی مکمل تنسیخ کی وجہ نہیں بن سکتی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ہر کیس کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اور غیر معمولی صورتحال میں ماں کی دوسری شادی کے باوجود بچے کو اس کے پاس ہی رہنے دینا بچے کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔ موجودہ کیس میں بچہ پیدائش سے ماں کے ساتھ رہ رہا ہے، صرف دوسری شادی کی بنا پر ماں سے بچے کو الگ کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ والد نے بچے کی حوالگی کے لیے چھ سال تاخیر سے دعویٰ دائر کیا، جبکہ والد اس دوران بچے کی کفالت یا دیکھ بھال کے لیے کسی قسم کی سنجیدہ کوشش کرتا دکھائی نہیں دیا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ والد نے بچوں کے اخراجات کے دعوے سے بچنے کے لیے حوالگی کی درخواست دائر کی، جبکہ ٹرائل کورٹ نے معاملے کے اہم پہلوؤں پر غور کیے بغیر فیصلہ دے دیا۔ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بچے کو ماں کے پاس ہی رہنے کا حکم برقرار رکھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں