ملتان(عوامی رپورٹر) تلمبہ کے نواحی علاقے موضع حیدرآباد میں بااثر جاگیردار شہزاد خاکوانی نے مقامی کسانوں اور ٹھیکے داروں پر ظلم کی انتہا کر دی ۔ کسانوں نے گزشتہ دو ماہ سے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کی، مگر انصاف کے بجائے الٹا ان پر جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی گئی، جو بعد ازاں تفتیش میں جھوٹ ثابت ہونے پر خارج کر دی گئی۔کسانوں نے شہزاد خاکوانی سے 8 مربع کا رقبہ ٹھیکے پر حاصل کیا، جس کا معاہدہ 30 جون2024 سے 2027 تک مؤثر ہے۔ اس رقبے پر آلو، گندم، کنولا، مکئی اور باغات کی کاشت کی گئی۔ فصل کی کامیابی دیکھ کر جاگیردار نے بے ایمانی شروع کر دی اور معاہدے سے انحراف کی کوششیں کرنے لگا۔کسانوں نے جب 28 ایکڑ پر کاشت شدہ آلو اکٹھے کر کے بیچنے کی تیاری کی تو جاگیردار نے اس پر زبردستی قبضہ کر لیا اور بعض آلو کو آگ لگا دی اور چوری اٹھوا لیے باقی جو آلوخوش قسمتی سے بچ گئے ہیں وہ گرمی کی وجہ سے خراب ہونے کا قوی امکان ہے، کسان کو اٹھانے نہیں دیا جارہا جس کے لیے کسان کئی مرتبہ ڈی پی او خانیوال کو آگاہ کرچکا ہے لیکن مقامی ایم پی اے حلقہ پی پی 207عامرحیات ہراج کی جاگیدار سے رشتہ داری کی وجہ سے کسان کی شنوائی نہیں ہو پا رہی۔ کسانوں نے متعدد بار 15 پر کال کر کے پولیس کو بلایا، جس نے موقع پر جا کر حالات کا جائزہ لیا۔ تاہم، جاگیردار نے طاقت کے نشے میں آ کر نہ صرف کسانوں پر سیدھی فائرنگ کی بلکہ موقع پر پہنچنے والی پولیس پارٹی پر بھی فائرنگ کر دی، جس کی ایف آئی آر پولیس مدعیت میں درج کی گئی۔ذرائع کے مطابق شہزاد خاکوانی کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کے والد محمد خان خاکوانی (مرحوم) سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور ان کی والدہ لاہور سے مخصوص نشست پر ایم پی اے رہ چکی ہیں۔ پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر میں نرم دفعات شامل کی گئیں، جبکہ کسانوں کو پہنچنے والے کروڑوں روپے کے نقصان اور جان سے مارنے کی کوششوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ بالآخر کسانوں کی ایف آئی آر بھی کمزور دفعات کے تحت درج کی گئی، جس کے نتیجے میں جاگیردار نے عبوری ضمانت حاصل کر لی۔مجبور ہو کر مظلوم کسانوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر سے اپیل کی، مگر اب جاگیردار حساس اداروں سے تعلقات کا دعویٰ کر کے دھمکیاں دے رہا ہے کہ ’’میرے جنرل، کرنل عزیز بیٹھے ہیں، کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جاگیردار کا 99 فیصد زرعی رقبہ زرعی ترقیاتی بینک کے نام منتقل ہو چکا ہے، مگر سیاسی اور مالی طاقت کے باعث تمام ادارے خاموش ہیں۔ ڈی پی او آفس خانیوال بھی بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔کسانوں نے کہا کہ ہم چیف آف آرمی اسٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں باقی فصل، بالخصوص آلو، کنولا، مکئی اور باغات کو بچانے اور اٹھانے کی اجازت دی جائے۔ہمیں کاشتکاری کی اجازت دی جائے، بشمول پانی اور کھاد کی فراہمی اورظالم جاگیردار سے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ ہم پرامن کسان دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں ورنہ ہم پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔







