ملتان (سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں 12 سال تک غیر قانونی طور پر تعینات رہنے والے سابق رجسٹرار کی جگہ پر نئے تعینات ہونے والے رجسٹرار نے بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے اس یونیورسٹی میں جاری رواج کو برقرار رکھا اور وفاقی وزارت تعلیم کی آشیرواد سے نئے تعینات ہونے والے قائم مقام رجسٹرار ندیم حسن بھی غیر قانونی طور پر اپنی تعیناتی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ یونیورسٹی کے قوانین کی روشنی میں رجسٹرار کی کم از کم عمر 40 سال اور زیادہ سے زیادہ 50 سال ہو سکتی ہے مگر ندیم حسن کو 50 کی حد کراس کیے ہوئے 9 سال گزر چکے ہیں اور وہ سوا سال بعد 14 اگست 2026 کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ان کے سروس ریکارڈ پر بھی بہت سے سوالات ہیں کیونکہ 2012 سے 28 جنوری 2018 تک 6 سال سعودی عرب ملازمت کرتے رہے جو کہ سراسر قواعد و ضوابط کے منافی تھا کیونکہ دوران سروس بیرونی ممالک میں ملازمت نہیں کی جا سکتی اور ملازمین کو بیرون ملک جانے کے لیے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے مگر سابق وائس چانسلر نئے تعینات ہونے والے رجسٹرار ندیم حسن پر خاصے مہربان تھے اور ان کو اپنے گروپ کا اہم ممبر سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 6 سال بعد واپس آنے پر ان کے خلاف کارروائی کے کھاتے بند کر دیئے گئے اور ان کی 6 سال کی بیرون ملک کی ملازمت کے دورانیے پر پردہ ڈالتے ہوئے ترقی بھی دے دی گئی۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ موصوف مبینہ طور پر آئی فون کے تحفے بہت زیادہ دیتے ہیں اور اس وقت مکہ کی نسبت رکھنے والے ایک اہم قانونی پرزے کی مکمل آشیرواد انجینئر ندیم حسن حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور قانونی پہلوؤں سے نابلد مذکورہ پاک شہر سے نسبت رکھنے والے مذکورہ “کم عمر صاحب” موجودہ رجسٹرار کے لئے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر نئی انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے غیر قانونی تعیناتی کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ 2012 کے سیکشن 13(1) کے مطابق “رجسٹرار وائس چانسلر کی سفارشات پر سینیٹ تعینات کرے گی” اور رجسٹرار کا ایڈیشنل چارج بھی سینیٹ ہی دے سکتی ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر شدہ کیس سی پی 07 /2024 میں بھی چیف جسٹس نے تمام تر یونیورسٹیوں کو واضح ہدایات جاری کیں کہ فوری طور پر مستقل تعیناتیوں کا طریقہ کار شروع کرتے ہوئے ٹینیورڈ پوسٹوں پر 6 ماہ کے اندر مستقل تعیناتیاں کی جائیں۔ مگر 24 اکتوبر 2024 کو فیصلہ آنے کے 5 ماہ بعد بھی ان ٹینیورڈ پوسٹوں پر مستقل تعیناتی کا عمل شروع نہ کیا جا سکا اور عارضی رجسٹرار ندیم حسن کو اضافی چارج سونپے جانے سے 20 دن پہلے ہونے والی این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی دوسری سینیٹ میٹنگ میں بھی یہ ایجنڈا نہ رکھا گیا۔
