ملتان( سٹاف رپورٹر)گندم کی فصل پکنے کا’’انتظار‘‘ ختم ہوگیا۔راجن پوراوررحیم یارخان کےکچے کے علاقے میں گندم کی کٹائی کے دنوں میں ڈاکوئوں کیخلاف ایک مرتبہ پھر پکا ہاتھ ڈالنے کے لئے آپریشن شروع کر دیا گیا۔ یہ دنیا بھر کی تاریخ کاواحد ایسا آپریشن ہے جس میں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہارویسٹر بھی استعمال ہوتے ہیں اور یہ بھی انتہائی توجہ طلب امر ہے کہ 90فیصد آپریشن مارچ کے آخر اور اپریل ہی میں کئے جاتے ہیں اور جب گندم کی فصل پک کر تیار ہوتی ہے۔یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ جن دنوں گندم کی بوائی کے لئے زمین کی تیاری ہوتی ہے اور میلوں تک ہر طرف میدان صاف ہوتے ہیں۔ ان دنوں آپریشن نہیں ہوتے اور نہ ہی ان دنوں میں ہوتے ہیں جب گندم کی ہزاروں ایکڑ پر فصل پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ انگریز دور میں بنایا جانے والا قرقی کا قانون آج بھی لاگو ہے جس کے تحت سماج دشمن عناصر کی املاک اور فصلیں قرق کر لی جاتی ہیں۔ قرقی کا یہ قانون چولستان اور کچے کے علاقے میں بہت آزادی سے استعمال ہوتا ہے اور یہ بھی توجہ طلب امر ہے کہ کچے کے علاقے میں لوگوں کا واحدذریعہ آمدن گندم کی فصل ہی ہوتی ہے جس کی قرقی کے بعد ان کے پاس واحد ذریعہ معاش جھوٹے موٹے جرائم رہ جاتا ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑے اور سنگین جرائم میں تبدیل ہو تا رہتا ہے۔ آج سے17سال قبل 2007 میں سابق ڈی آئی جی ڈیرہ غازیخان مبارک اطہر چوہدری نے سابق ڈی پی او راجن پور مقصود الحسن کی معاونت سے ایک بھی فائر کئے بغیر کامیاب آپریشن کرکے 50 سے زائد خطرناک اشتہاریوں سے ہتھیار پھینکوا کر انہیں جیل بھیجا تھا اور تب ان تمام خطرناک اشتہاری ملزمان کی ہتھیار ڈالنے کی واحد شرط یہ تھی کہ ان کے خلاف جو بھی جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات درج کئے گئے ہیں انہیں ختم کیا جائے اور جو مقدمات سچے ہیں ان مقدمات کی سزا بھگتنے کو وہ تیار ہیں۔ان دنوں لونگ لٹھانی نامی ایک اشتہاری نے 6 فٹ بلندی پر جدید اینٹی ایئر کرافٹ گن بھی پولیس لائن راجن پور میں ہتھیار ڈالتے وقت پیش کی تھی جس کے ساتھ گولیوں کے ہزاروں رائونڈ بھی تھے۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کے خلاف پکا ہاتھ تسلسل سے مارچ، اپریل ہی میں ڈالا جاتا ہے اور قرقی شدہ گندم کا کتنا حصہ سرکاری خزانے میں جاتا ہے اور کتنا ادھر ادھر ہو جاتا ہے اس حوالے سے کبھی اعداد و شمار سامنے نہ آ سکے البتہ آپریشن کے بعد متاثرین کی دہائیاں ہر سال سننے کو ملتی ہیں۔







