اسلام آباد: وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا ہے کہ اگر قوم نے پولیو کے خاتمے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو پاکستان واحد پولیو زدہ ملک بن سکتا ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز پوری محنت سے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ والدین اب بھی بچوں کو یہ قطرے پلانے سے گریزاں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان ہی ایسے ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے، اور اس سال دسمبر تک پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت بھی انسداد پولیو مہم میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور ان کی مہم مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ اس بار پاکستان اور افغانستان میں انسداد پولیو مہم ایک ساتھ چلائی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سال 2025 میں اب تک ملک میں پولیو کے 6 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں، صرف ویکسین ہی بچاؤ کا ذریعہ ہے، جبکہ کینسر اور ایچ آئی وی جیسے مہلک امراض کا علاج دستیاب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب بھی سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی خطرے کی گھنٹی ہے، تاہم اس خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیسف سے حاصل کی جانے والی ویکسین بالکل محفوظ ہے اور اس میں کسی قسم کی ملاوٹ کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
وزیر صحت نے بتایا کہ وزارت سنبھالتے ہی چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ان کی ملاقات ہوئی اور سب نے پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلف لینے سے قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف نے انسداد پولیو سے متعلق فون پر میٹنگ کی اور اس مہم کو اولین ترجیح قرار دیا۔







