ملتان(نمائندہ خصوصی)مسافر ٹرینوں سے لائٹس ،پنکھے،لائٹس کے شیڈز غائب ہونے اور لوکل پرچیز میں چولی دامن کا ساتھ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،پہلے اشیاء کو غائب کیا جاتا ہے بعد ازاں ان ہی اشیاء کی لاکھوں روپے میں لوکل پرچیز کر لی جاتی ہے اس کھیل میں سب حصہ بقدر جثہ وصول کرتے ہیں، دوسری طرف چیف الیکٹریکل انجینئر ریلوے ہیڈ کوارٹر روزنامہ قوم میں خبر کی اشاعت پر براہم اس اصلاح احوال کی بجائے روزنامہ قوم کو ڈیٹا فراہم کرنے والے کو کالی بھیڑ قرار دیتے ہوئے تلاش کے لئے گریڈ18کے الیکٹریکل انجینئر میکش کمارکی ڈیوٹی لگا دی ،ذرائع کے مطابق مسافر ٹرینوں سے جب لائٹوں،پنکھوں،لائٹس کے شیڈز کے غائب ہونے کی تفصیلات تیار کی جاتی ہیں یا پھر جب مسافروں کی طرف سے مسافر بوگیوں میں لائٹس،پنکھے دیگر سہولیات نہ ہونے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں تو پھر غائب سامان کو پورا کرنے کے لئے ایمرجنسی لوکل پرچیز کا عمل مکمل کیا جاتا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سامان کے غائب ہونے اور لوکل پرچیز کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اب جبکہ ملتان ڈویژن کی مسافر ٹرینوں ،زکریا،موسیٰ پاک،مہر،تھل میں سے سامان کے غائب ہونے کی لسٹ مرتب کی گئی تو اس کا مقصد بھی لوکل پرچیز کے ذریعے سامان پورا کرنا تھا ،ذرائع کے مطابق غائب سامان کو ہی دوبارہ لوکل پرچیز کر لیا جاتا ہے جس کے ذریعے ٹرینوں سے سامان غائب کرنے والا مافیا دونوں ہاتھوں سے کمائی کرتا ہے، بتایا جاتا ہے کہ شعبہ ٹرین لائٹنگ کے سٹاف کی موجودگی میں مسافر ٹرینوں سے لاکھوں روپے مالیتی قیمتی سامان غائب ہونے کی خبر شائع ہونے پر چیف الیکٹریکل انجینئر سخت برہم ہوگئے،انہوں نے اس امر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ ملتان ڈویژن نے سامان غائب ہونے کا جو ریکارڈ ہیڈ کوارٹر بھجوایا وہ سوفیصد ہی روزنامہ قوم میں کسطرح شائع ہوگیا، ذرائع کے مطابق چاہیے تو یہ تھا کہ چیف انجنیئر الیکٹریکل اس شخص کا خیر مقدم کرتے جس نے سامان غائب ہونے کے معاملہ کو عوام تک پہنچایا، اس کے برعکس چیف انجنیئر نے اس شخص کو کالی بھیڑ قرار دیتے ہوئے گریڈ18کے الیکٹریکل انجینئر میکش کمار کو ہدایت کی کہ وہ ایک دن کے اندر خبر دینے والے کا سراغ لگا کر رپورٹ کریں، ریلوے ملازمین نے ٹرینوں سے سامان غائب ہونے کے بعد اسی سامان کی دوبارہ لوکل پرچیز کے معاملات سامنے آنے پر وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی دیگر اعلی حکام سے گزشتہ5سال کا فرانزک آڈٹ کروانے کا مطالبہ کیا ہے کہ تاکہ اس مد میں ریلوے کو ہونے والے نقصان اور محکمہ میں موجود کالی بھیڑوں تک رسائی حاصل کی جاسکے۔







