ملتان (وقائع نگار) زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامی افسران سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے مطابق سٹیچری عہدوں پر مقررہ وقت میں تعیناتیوں کا عمل مکمل نہ کر سکے۔زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے پی اے امین زاہد عارضی طور پر تعینات رجسٹرار اعجاز احمد اور ڈپٹی رجسٹرار لیگل محی الدین پر مبنی عملہ ان آسامیوں کو مشتہر کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ سینیئر آفیسر کا الزام ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے بار بار انتباہ کے باوجود وائس چانسلر ہائر اتھارٹیز کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرا سکے۔ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی پاکستان بھر میں ایک ایسی درسگاہ بن چکی ہے جہاں ہر نئےآنے والے وائس چانسلر بلیک میلروں ٹولے کے شکنجے باہر ہی نہیں نکل پا رہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ اف پاکستان نے آئینی درخواست نمبر سات 2024 میں عام فیصلہ دیتے ہوئے یونیورسٹیز کو پابند کیا تھا کہ وہ سٹریچری سیٹوں رجسٹرار کنٹرولر اور خزانہ دار پر فل فور اسامی مشتہر کرکے کم سے کم وقت میں تقرری کا عمل مکمل کرے جبکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس ضمن میں یونیورسٹیوں کو بروقت آگاہ کر کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درامد کرانے کے لیے انتباہ جاری کر رکھا ہے دیگر یونیورسٹیوں نے ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلے کی توثیق میں تعیناتیاں کر لی لیکن زکریا یونیورسٹی نے حسب معمول سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر کرنے سے التوائی حربے استعمال کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کے سینیئر ترین انتظامی افسران کا کہنا ہے کہ پی اے وائس چانسلر امین زاہد و ڈپٹی رجسٹرار محی الدین متنازعہ ڈپٹی اور ایڈیشنل رجسٹرار اعجاز پر مشتمل ٹولہ سٹریچری پوزیشن کی اسامیوں کو مشتہر کرنے کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ ابھی تک یونیورسٹی صرف خزانہ دار کی سیٹ پر تقرر کو یقینی بنا سکی ہے لیکن عرصہ دراز سے رجسٹرار اور کنٹرولر کی پوسٹ پر جان بوجھ کر تقرری نہیں ہونے دی گئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شعبہ امتحانات کے میگا کرپشن سکینڈل کے پیچھے اسی ٹولے کی پشت پناہی شامل ہے یہ ٹولہ ہر انے والے وائس چانسلر کو ڈی ٹریک کرکے اعلی فورم سے ائے ہوئے فیصلے رد کراتے ہیں شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے ایک سینیئر پروفیسر کے مطابق زکریا یونیورسٹی رجسٹر اور کنٹرولر جیسی اہم پوسٹوں پر نااہل افراد کی عارضی تعیناتی کرکے یونیورسٹی معاملات بگاڑے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جعلی لا کالج رجسٹریشن کا کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہونے کے باوجود زکریا یونیورسٹی پر یہ ٹولہ قابض ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جلد ہی اس ضمن میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی جا رہی ہے جب اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے کسی ایسے فیصلے کے بارے انہیں علم نہیں ہے۔







