مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ عمران خان کو کس سے بات کرنی چاہیے؟
جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی قیادت وہ خود کریں گے۔ بعد ازاں، مہم کے نتائج نواز شریف اور مریم نواز کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال عوامی رابطہ مہم پنجاب تک محدود ہوگی، جبکہ نواز شریف دیگر صوبوں کا دورہ کرکے وہاں جلسے کریں گے۔
عمران خان کی رہائی سے متعلق امریکی ڈاکٹروں کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ امریکی ڈاکٹروں نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی، وہ شاید صرف خیریت دریافت کرنے آئے تھے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، لیکن پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ کے رویے سے سب پریشان ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اپنے صوبے کی نمائندگی کرنی چاہیے تھی، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ اپنی ذمہ داری سے کوتاہی کر رہے ہیں۔
سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے بنیاد مقدمات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے چاہییں۔ دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ کے پانی پر کوئی قبضہ نہیں کر رہا اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا۔
آخر میں، بانی پی ٹی آئی کی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے تیار تھے، لیکن مسائل کا حل اسٹیبلشمنٹ کے بجائے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں ہے۔







