آج کی تاریخ

این ایف سی ڈاکٹر کالرو کے کھاتے کھل گئے، وائس چانسلر کو 84 ملین کی ریکوری کا حکم

ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی تحقیقاتی رپورٹنگ کے حوالے سے ایک اور محنت رنگ لے آئی جس کا آغاز روزنامہ قوم نے 20 ماہ پہلے کیا تھا۔ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے برطرف سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی کالرو سے جعلی وصولیوں کی ریکوری کی بابت ایجنڈا سینیٹ میں منظوری کے لئے رکھ لیا ہے اور یہ تمام تر ریکوری رپورٹ بھی این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے سابق وی سی کے ہی دست راست سمجھے جانے والے کلرک کم خزانچی مغفور انور چغتائی نے تیار کی۔ تفصیل کے مطابق روزنامہ قوم نے 24 اگست 2023 بروز جمعرات اپنی خبر میں سابق غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کے غیر قانونی قبضے اور

غیر قانونی اقدامات بارے خبر شائع کی تھی اور مسلسل 14 ماہ تک مذکورہ غیر قانونی وائس چانسلر اور ان کے تمام غیر قانونی کاموں کی نشاندہی کرتے ہوئے وفاقی وزارت تعلیم، ایوان صدر ، سپریم کورٹ، اور ہائیکورٹ کی توجہ اس جانب دلائی تھی۔ جس پر این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے ناجائز اور غیر قانونی وائس چانسلر جن کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ جس کی سربراہی قاضی فائز عیسیٰ کر رہے تھے نے 20 ستمبر 2024 کے زبانی فیصلے اور 24 اکتوبر 2024 کے تحریری فیصلے میں برطرف کرتے ہوئے ان سے 2018 کے بعد سے تمام تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ریکوری کا حکم جاری فرمایا تھا جس پر ایکشن لیتے ہوئے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معظم اعجاز نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر اختر کالرو سے ریکوری کا ایجنڈا ڈاکٹر اختر کالرو کے ہی دست راست کلرک کم خزانچی مغفور انور چغتائی سے تیار کروایا۔ جس کی تمام تر تفصیلات روزنامہ قوم نے حاصل کر لی ہیں جن کے مطابق سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے یونیورسٹی سے 2018-19 کے دوران 1 کروڑ 16 لاکھ، 2019-20 کے دوران 1 کروڑ، 2020-21 میں 1 کروڑ 44 لاکھ ، 2021-22 کے دوران 1 کروڑ 40 لاکھ، 2022-23 کے دوران 1 کروڑ 48 لاکھ، 2023-24 کے دوران 1 کروڑ 42 لاکھ جبکہ جولائی 2024 سے 24 اکتوبر 2024 تک ان کی تحریری برطرفی تک 45 لاکھ 84 ہزار روپے وصول کیے۔ اس طرح 6 سال کے دوران ان کی طرف سے وصول کی گئی یہ تمام رقم 8 کروڑ 34 لاکھ روپے بنتی ہے جس میں تنخواہوں کی مد میں 6 سال 4 ماہ میں 3 کروڑ 62 لاکھ، جبکہ چھٹیاں کیش کروانے کی مد میں 67 لاکھ جس میں صرف سال 2020-21 میں 41 لاکھ روپے کی چھٹیاں کیش کروائی گئیں۔ جبکہ 6 سال اور 4 ماہ کے غیر قانونی عرصے میں 36 لاکھ روپے انٹرٹینمنٹ الاؤنس کے نام پر وصول کیے گئے۔ اس 6 سال 4 ماہ کے غیر قانونی عرصے میں غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو 45 لاکھ کا پیٹرول بھی پی گئے جس میں صرف سال 2023-24 میں 12 لاکھ کا پٹرول الاؤنس وصول کیا۔ 6 سال 4 ماہ کے غیر قانونی عرصے میں تقریباً 44 لاکھ 44 ہزار روپے بجلی کے بل کی مد میں وصول کیے۔ میڈیکل کے بلوں کے اخراجات کی مد میں 41 لاکھ روپے نکلوائے گئے۔ جس میں صرف 2023-24 میں 9 لاکھ کا میڈیکل کلیم کیا گیا۔ موبائل پوسٹ پیڈ کی مد میں 3 لاکھ 72 ہزار روپے ، سفری اخراجات کی مد میں 26 لاکھ 21 ہزار روپے جس میں صرف 2020-21 میں 6 لاکھ 78 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ انٹری ٹیسٹ کی وصولیوں میں 97000 روپے، پینشن کی مد میں 21 لاکھ روپے ، 6 سال 4 ماہ کے غیر قانونی عرصے میں ایم ایس سی کلاسز کی مد میں 20 لاکھ روپے جس میں انہوں نے کوئی ایم ایس کلاسز نا پڑھائی ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی کلاسز کے معاوضے کی مد میں 37 لاکھ روپے جبکہ یاد رہے کہ ٹیکنالوجی کلاسز 3 سال پہلے بند بھی کر دی گئی ہیں۔ آئی ایف سی معاوضے کی مد میں 21 لاکھ 48 ہزار روپے، 6 سال 4 ماہ کے غیر قانونی عرصے میں ایڈمیشن بونسز کی مد میں 68 لاکھ روپے جس میں صرف 4 ماہ کے آخری غیر قانونی عرصے میں جاتے جاتے ایڈمیشن بونس کی مد میں 12 لاکھ 53 ہزار روپے وصول کیے ۔ عید بونسز کے نام پر تقریباً 41 لاکھ روپے وصول کیے۔ یوں یہ تمام رقم جو اس 6 سال 4 ماہ کے غیر قانونی عرصے میں جائز طریقے اپنا کر بنائی گئی وہ تقریباً 84 ملین روپے بنتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ یہ رقم کیسے وصول کرتی ہے کیونکہ ڈاکٹر اختر کالرو نے اس سے بچنے کے لئے ابھی سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں