آج کی تاریخ

ویمن یونیورسٹی ؛وی سی ہائوس قبضہ ،سابق رجسٹرار عدالت پہنچ گئیں ،اصل حقدار کٹہرے میں

وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر فرخندہ منصور،پروفیسر قمر رباب اوردوسری جانب حکم امتناعی کیلئے درخواست

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی سابق رجسٹرار ڈاکٹر قمررباب جنہوں نے غیر قانونی طور پر بی بی اے ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ڈاکٹر سعدیہ ارشاد کو فالتو مارکس عنایت کرواتے ہوئے سلیکشن بورڈ سے پروفیسر کی منظوری لیتے ہوئے سنڈیکیٹ سے منظور کروا لیا جسے بعد ازاں گورنر پنجاب/چانسلر خواتین یونیورسٹی ملتان نے انکوائری کرتے ہوئے غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس کے بعد وائس چانسلر ہاؤس پر قابض سابق رجسٹرار ڈاکٹر قمر رباب کی طرف سے یونیورسٹی کے قوانین میں ردوبدل کرکے بطور سیکرٹری سینڈیکیٹ ان ترمیم شدہ قوانین کو سنڈیکیٹ سے منظور کروا کر وائس چانسلر کی رہائش گاہ اپنے نام کروانے اور نوٹس کے باوجود قبضہ نہ چھوڑنے کے بعد سول کورٹ میں سٹیٹ انچارج کی جانب سے جاری کیے گئے وائس چانسلر ہاؤس کو خالی کرنے کے نوٹس پر حکم امتناعی کے لئے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس میں ڈپٹی رجسٹرار عرفان حیدر ،محمد شفیق انچارج سٹیٹ مینجمنٹ، چیئر پرسن الاٹمنٹ کمیٹی ڈاکٹر صائمہ نسرین ، نئی تعینات ہونے والی وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منصور، اے کیٹگری میں رہائش رکھنے والی دو ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر ملکہ رانی اور ڈاکٹر کنول رحمان سمیت سنڈیکیٹ کو پارٹی بنایا گیا اور یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ڈاکٹر قمر رباب پروفیسر سکیل 21 چیئر پرسن ڈیپارٹمنٹ اف میتھمیٹکس ویمن یونیورسٹی ملتان میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور الاٹمنٹ لیٹر مورخہ 30 ستمبر 2022 کے تحت برائے قواعد و ضوابط الاٹمنٹ کیٹگری اے رہائش واقع متی تل کیمپس ویمن یونیورسٹی ملتان کی قابض متصرف، بلا شرکت غیر ہیں جبکہ ای میل مورخہ 17 مارچ 2025 کو محمد شفیق کی جانب سے اور تحریری نوٹس مورخہ 18 مارچ جو کہ عرفان حیدر ڈپٹی رجسٹرار کی جانب سے جاری کیا گیا وہ ڈاکٹر قمر رباب کے حقوق پر قطعی طور پر اثر انداز نہ ہے جو کہ برخلاف قانون قواعد و ضوابط ہے چنانچہ ڈپٹی رجسٹرار اسٹیٹ مینجمنٹ کو کوئی اختیار نہ ہے کہ وہ ڈاکٹر قمر رباب کو الاٹ کی گئی رہائش منسوخ کریں ۔تفصیل کے مطابق ویمن یونیورسٹی میں کیٹگری اے میں تین عدد رہائش متی تل کیمپس میں موجود ہیں جن میں سے ایک رہائش ڈاکٹر قمر رباب کے بطور سینئر موسٹ درخواست گزار ہونے کی بنا پر 30 ستمبر 2022 کو الاٹ کی گئی جبکہ دیگر دو کیٹیگری اے رہائش پر ڈاکٹر ملکہ رانی اور ڈاکٹر کنول رحمان رہائش پذیر ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس کیٹگری کی رہائش میں ڈاکٹر قمر رباب رہائش پذیر ہیں وہ صرف اور صرف وائس چانسلر کے لیے مخصوص تھی مگر 2022 میں ڈاکٹر قمر رباب جو کہ رجسٹرار اور سیکرٹری سنڈیکیٹ تھی نے قوانین میں رد و بدل کر کے اور سنڈیکیٹ سے منظوری کروا کر وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی کی رہائش اپنے نام الاٹ کروا لی۔ چنانچہ اس مخصوص عرصے میں کوئی مستقل وائس چانسلر نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر قمر رباب وائس چانسلر ہاؤس پر رہائش پذیر رہی مگر اب مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منصور جن کا تعلق اسلام آباد سے ہے کے فروری میں جوائننگ دینے کے بعد بیماری کی وجہ سے واپس چلی گئی تھیں اس دوران ڈپٹی رجسٹرار اور سٹیٹ انچارج کی جانب سے قمر رباب کو لیٹر جاری کیا گیا کہ وہ یہ رہائش قانونی طور پر خالی کر دیں۔ کیونکہ وائس چانسلر یونیورسٹی جوائن کر چکی ہیں مگر ڈاکٹر قمر رباب نے اس بابت سٹے دائر کر دیا جس میں آئندہ پیشی 29 مارچ 2025 بروز ہفتہ مقرر ہے۔ سٹے آرڈر میں مزید یہ بھی التجا کی گئی کہ قانون کے مطابق ڈاکٹر قمر رباب کو 60 روز کا ٹائم نہ دیا گیا اور مزید یہ کہ A کیٹیگری کی رہائش پر رہائش پذیر ڈاکٹر ملکہ رانی یا ڈاکٹر کنول رحمان سے خالی کروا کر ڈاکٹر قمر رباب کو بطور سینیئر موسٹ پروفیسر گریڈ 21 الاٹ کیا جائے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ڈپٹی رجسٹرار اور انچارج سٹیٹ مینجمنٹ ڈاکٹر قمر رباب سے اس طرح زور زبردستی دھونس دھاندلی اور طمع نفسانی کے تحت بمطابق قوانین الاٹ شدہ گھر یعنی رہائش فی الفور خالی نہ کروا سکتے ہیں جن کو اب تک منت سماجت سے باز رکھا گیا ہے جس کے لیے 60 دن کا وقت دیا جانا اور بمطابق کیٹگری اے مروجہ قانون یونیورسٹی ملتان ریزیڈنس الاٹمنٹ سٹیچیوٹس 2021 کے تحت دیگر رہائش جن میں ڈاکٹر ملکہ رانی اور ڈاکٹر کنول رحمان رہائش پزیر ہے سے خالی کروا کر ان کو الاٹ کریں لیکن ڈپٹی رجسٹرار اور انچارج سٹیٹ مینجمنٹ انکاری ہیں اور اگر ڈپٹی رجسٹرار اور سٹیٹ انچارج اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو گئے تو ڈاکٹر قمر رباب کو معہ فیملی ناقابل تلافی نقصان ہوگا جس کا ازالہ بعد میں ناممکن ہوگا چنانچہ حکم امتناعی دوامی جاری فرمایا جائے۔ ویمن یونیورسٹی ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک سینئر پروفیسر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قمر رباب کی اپنی ذاتی رہائش گاہ واپڈا ٹاؤن میں موجود ہے جو کہ انہوں نے رینٹ پر دی ہوئی ہے اور ڈاکٹر قمر رباب وائس چانسلر ہاؤس بمقام متی تل کیمپس میں غیر قانونی طور پر قابض ہیں اور نئی تعینات ہونے والی وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منصور ویمن یونیورسٹی کچہری چوک کیمپس میں دو کمروں کی رہائش میں رہائش پذیر ہے جو کہ قانون
اور اخلاقیات کے بر خلاف ہے۔ قانون کے مطابق اگر کوئی ملازم اسی شہر میں کسی رہائش کا مالک ہو گا تو وہ سرکاری رہائش کا حقدار نہ ہو گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں