ملتان،قادرپورراں(سپیشل رپورٹر، نامہ نگار) ڈبل شاہ، مدد کمیٹی اور رقم دگنی کرنے کے لالچ میں سینکڑوں دفعہ لٹنے اور اربوں، کھربوں کے علاوہ جائیدادوں سے بھی محروم ہونے والے پاکستانیوں کو لوٹنےکیلئے اب آن لائن ڈبل شاہ مارکیٹ میں آگئے ہیں اور رقم دگنی کرنے کے لالچ میں صرف دو دن کے دوران رمضان المبارک کےآخری عشرے میں عید پر دگنی رقم ملنے کی امید پر 42 ارب 56 کروڑ کی رقم ایسی ویب سائٹس پر لگادی گئی ہیں جہاں چند دنوں میں رقم دگنی کرنے کا جھانسہ دیا گیا ہے۔ ٹریژر این ایف ٹی( Treasure NFT) سمیت کئی دیگر ویب سائٹس پر ڈالرز کی مد میں شہریوں نے رقوم لگا رکھی ہیں جہاں انہیں رقم دگنی کر کے دی جاتی ہے۔ اس ویب سائٹ نے عید الفطر پر بلیک بکس کے نام سے ایک کمپین بھی شروع کی ہے جس میں 86 ڈالر اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے بعد ایک آن لائن باکس کھولنے کا موقع دیا جاتا ہے جہاں 50 سے ہزار ڈالرز کا انعام ملتا ہے۔ عید الفطر پر رقم ڈبل کرنے کے لالچ میں لاکھوں افراد نے صرف چند گھنٹوں کے دوران 42 ارب سے زائد کی رقم ان ویب سائٹس پر لگا دی ہے جس سے ایک مرتبہ پھر آن لائن ٹریڈنگ کے نام پر ایک بڑے فراڈ کا خدشہ ہے ۔واضح رہے کہ مذکورہ ویب سائٹ پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک میں کام کر رہی ہے جہاں اکاؤنٹ بنا کر 90 ہزار روپے سے لے کر 60 ہزار روپے تک کی رقم لگانی پڑتی ہے اور یومیہ ٹاسک پورے کر کے تین ڈالر سے 10 ڈالر تک روزانہ کمانے کا موقع ملتا ہے۔ حال ہی میں ایف آئی اے نے فوریکس ٹریڈنگ کے نام پر 12 ارب روپے کا فراڈ کرنے والا ایک گینگ پکڑا تھا۔ شہریوں کو این ایف ٹی ویب سائٹ سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھرقادرپورراں و گردونواح میں بھی انویسٹر اور غیر رجسٹرڈ کمپنیاں لوگوں کےکروڑوں روپے لوٹ کر فرارہوگئیں ، این ایف ٹی اور پلوٹو نامی کمپنیاں جو کہ غیر رجسٹرڈ تھیں انہوں نے چند ہفتے قبل قادر پورراں و گردو نواح میں اپنے ٹاؤٹس کے ذریعے جال بچھایا اور ایک ایپ کے ذریعے لوگوں کے موبائل میں اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو نفع دینے لگے۔ لوگوں نے دھڑا دھڑ اکاؤنٹ بنانے شروع کر دیئے۔ پلوٹو کمپنی نے سب سے زیادہ پرافٹ دینا شروع کر دیا۔ لوگوں نے لالچ میں آ کر اپنی عورتوں کے زیورات اور گھروں کے سامان یہاں تک کہ اپنے موٹر سائیکل بھی بیچ کر اکاؤنٹ بنوا لئے جب کمپنی کو یہ پتہ چلا کہ لوگ دھڑا دھڑ ہماری طرف آ رہے ہیں تو انہوں نے پرافٹ کی شرح میں مزید اضافہ کر دیا جس پر پورے شہر میں ایک ٹرینڈ چل گیا ۔لوگوں نے کروڑوں روپے کمپنی میں لگا دیئے جب کمپنی کو پتہ چلا کہ اب اربوں روپے میں گیم پہنچ گئی ہے تو انہوں نے وہ ایپ جو بنائی تھی اسے گزشتہ روز بند کر دیا اور اپنے رابطے نمبر بھی بند کر دیئے لوگوں کا براہ راست کسی سے کوئی رابطہ نہ تھا بس دیکھا دیکھی اپنے موبائل میں ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے اور ڈالر اس میں ڈال دیتے اب جب کہ کمپنیاں فرار ہو چکی ہیں تو اب شہری سر پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ عید سے قبل اتنا بڑا فراڈ شہریوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ایک اندازے کے مطابق پلوٹو کمپنی نے 46 ارب 40 کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے اور اس کے علاوہ این ایف ٹی نے بھی کروڑوں روپے میں فراڈ کیا ہے اب جب کہ اس وقت بھی دیگر کمپنیاں جو کہ غیر رجسٹرڈ ہیں وہ چل رہی ہیں لوگوں نے ان میں بھی لاکھوں روپے لگا رکھے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی کمپنیاں شہریوں سے لاکھوں روپے کی لوٹ مار کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں اس کو پیسے دیتے ہیں وہ پھر لوگوں کو آگے گائیڈ کرتا ہے اور نفع کا لالچ دے کر لوگوں کو ایپ بنا کر دیتا ہے جس سے لوگ لالچ میں آ کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں جن میں ایڈ ٹوکن، بی لو ٹوکن ، بلیٹو کمپنی اور دیگر اس طرح کی کئی کمپنیز ہیں جو پہلے بھی فراڈ کر کے بھاگ گئی ہیں۔ اب شہریوں نے ایف آئی اے ملتان و دیگر تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کو گرفتار کر کے انہیں نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کا اتنا بڑا نقصان نہ ہو۔







