ملتان (کرائم ریسرچ سیل ) نشتر ہسپتال کی مرکزی فارمیسی پر گزشتہ سال اینٹی کرپشن ملتان کا کامیاب ریڈ بھی سرکاری ادویات کی چوری نہ روک سکا، سی سی ٹی وی کیمرے اسوقت سے تاحال خراب، نشتر انتظامیہ ہٹ دھرمی کرکے خراب کیمروں کا ایک ماہ کا بیک اپ چار دن پر لے آئی، نشتر انتظامیہ کے تمام تر حفاظتی دعوےدھرے کے دھرے رہ گئے ۔سرکاری ادویات کی چوری سرکاری ملازمین کے پرائیویٹ رکشوں پر مسلسل جاری ہے تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال کی مرکزی فارمیسی جہاں سے سرکاری ادویات تمام وارڈز ، چھوٹی فارمیسوں، آئوٹ ڈورز ترسیل کی جاتی ہیں۔ ملتان اینٹی کرپشن نے ادویات ، انسولین کی چوری ہونے پر گذشتہ سال ستمبر کی اکیس تاریخ کو ریڈ کیا۔ سرکاری ادویات چوری کرنیوالے فارمیسی کے ملازمین اور ادویات کو سرکاری قبضہ میں لے لیا۔ حیرت انگیز طور سے اسوقت سے لیکر تاحال سی سی ٹی وی کیمرے خراب پڑے ہیں۔ اینٹی کرپشن کے سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کرنے پر کورا جواب دے دیا جاتا ہے کہ کیمرے خراب پڑے ہیں۔ کروڑوں کی ادویات والے گودام پر موجود کیمرے پچھلے سال سے خراب پڑے ہیں اور انکا سٹوریج بیک اپ ایک ماہ سے تبدیل کرکے پہلے پندرہ دن پھر چار دن پر لے آئے ہیں۔ اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق فارمیسی کے ملازمین پرائیویٹ رکشوں پر سرکاری ادویات کی ترسیل کرتے ہوئے چوری میں ملوث پائے گئے ہیں۔نشتر ہسپتال سے سرکاری ادویات کی چوری کا یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے اور نشتر کی کوئی بھی انتظامیہ اسے کنڑول نہیں کر پارہی جبکہ کروڑوں روپے کے بجٹ کے حامل نشتر ہسپتال میں سی سی ٹی وی کیمروں کی خرابی ایک پراسرار راز جیسا ہے۔ اینٹی کرپشن کے نشتر انتظامیہ سے کیمروں کی خرابی بارے دریافت کرنے پر جواب دیا گیا کہ نشتر تزئین وآرائش کی وجہ سے ایسا ہوا ہے جبکہ اینٹی کرپشن ذرائع نے بتایا ہے کہ نشتر مرکزی فارمیسی کی آج تک کسی قسم کی رینویشن نہیں ہوئی۔







