ملتان (سٹاف رپورٹر) پنشن کے حصول کے لیے گزشتہ کئی ماہ میں قائم مقام فرضی و جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پر ا چہ کے نام لکھے گئے 111 یاد دہانی کے خطوط بھی سابق رجسٹرار اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سابقہ با اعتماد ساتھی ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان اپنی پنشن کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے انتقامی رویے کی انتہا کر دی۔ پرو وائس چانسلر کے طور پر فرائض انجام دینے والی عارضی اور متنازعہ حیثیت کی حامل ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔ تازہ صورتحال میں ان پر اپنی پرانی ساتھی اور سابق رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کے ساتھ مبینہ طور پر انتقامی سلوک اختیار کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان جو شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں، ماضی میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے قریبی انتظامی ساتھیوں میں شمار ہوتی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سنڈیکیٹ کے بعض اہم منٹس کی تیاری میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ان کی ملازمت میں توسیع کے ایجنڈے کو سنڈیکیٹ کی منظوری نہ ملنے کے باوجود اسے منظور شدہ ظاہر کر کے بھجوایا گیا، جس پر بعد ازاں متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے سخت اعتراضات سامنے آئے۔ ان اعتراضات میں Higher Education Commission of Pakistan، Higher Education Department Punjab، Law Department Punjab اور Finance Department Punjab شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ان اداروں نے مذکورہ منظوری کے طریقہ کار پر قانونی اور انتظامی نوعیت کے سخت سوالات اٹھائے تھےجس سے یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ اب تازہ معاملہ ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کی پنشنری واجبات کی عدم ادائیگی کا ہے۔ وہ اب تک 111 یاددہانی خطوط ارسال کر چکی ہیں مگر ان کے بقول ان کے پنشن شیئر، حتمی پنشن، بقایا جات اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں دانستہ تاخیر کی جا رہی ہے۔ 13 فروری 2026 کو بھیجے گئے اپنے ایک یاددہانی خط میں انہوں نے لکھا کہ میں اپنی پنشنری شیئر، حتمی پنشن، بقایا جات اور دیگر متعلقہ معاملات میں غیر معمولی تاخیر پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری سابقہ ای میلز اور یاددہانی خطوط کے باوجود یہ مسائل حل نہیں کیے گئے جس کے باعث مجھے شدید مالی پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے اور یہ خزانچی دفتر اور انتظامیہ کے غیر پیشہ ورانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید تحریر کیا کہ میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ آپ کے دفتر اور متعلقہ عملہ ان معاملات کو کیوں نظرانداز کر رہا ہے۔” خط میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ٹریژری آفس لاہور کی جانب سے جاری کردہ چیک کئی ماہ قبل جمع کرا دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود پنشنری شیئر ادا نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ یونیورسٹی میں انجام دی گئی خدمات کی ادائیگی بھی تاحال باقی ہے جبکہ نظرثانی شدہ حتمی پنشن اور بقایا جات بھی موصول نہیں ہوئے، حالانکہ یہ ان کا قانونی اور جائز حق ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان معاملات کا جائزہ لے اور تحریری طور پر آگاہ کرے کہ ان مسائل کے حل کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں، کیونکہ ان کے بقول متعلقہ دفتر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یونیورسٹی کے تدریسی اور انتظامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ جو افراد ماضی میں ایک دوسرے کے لیے انتظامی سہارا بنے رہے، آج وہی مبینہ طور پر انتقامی رویوں کا شکار کیوں ہیں؟ کیا یہ اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے یا سابقہ متنازعہ فیصلوں کی بازگشت؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ریٹائرڈ افسر کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی میں دانستہ تاخیر ثابت ہو جائے تو یہ نہ صرف انتظامی بدانتظامی بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے، جس پر محکمانہ کارروائی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے اس بارے میں موقف کے لیے بذریعہ واٹس ایپ خبر بھیجی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔







