یو ای ٹی ملتان: اقربا پروری، بےضابطگی، رجسٹرار کیخلاف اینٹی کرپشن درخواست

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان کی معروف تعلیمی درسگاہ محمد نوازشریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی میں مبینہ اقربا پروری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے جس نے جامعہ کے انتظامی معاملات اور میرٹ کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں انجینئر محمد زاہد اقبال کی جانب سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے ملتان ریجن کو باضابطہ درخواست دے کر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر گزشتہ آٹھ برسوں سے زائد عرصے سے قائم مقام رجسٹرار کے طور پر کام کر رہے ہیں حالانکہ یونیورسٹی کے قانون MNS UET Multan Act 2014 کے مطابق رجسٹرار کی مدت ملازمت تین سال مقرر ہے۔ شکایت کے مطابق نہ تو اس عہدے کے لیے باقاعدہ اشتہار دیا گیا اور نہ ہی میرٹ پر تقرری کے تقاضے پورے کیے گئےجس کے باعث ادارے میں شفافیت اور میرٹ کے اصول بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ شکایت میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر بیک وقت کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور رجسٹرار کے طور پر مکمل مراعات اور تنخواہ حاصل کر رہے ہیں، جسے واضح مفادات کے ٹکراؤ کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس صورتحال نے یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے اور اختیارات کا غیر معمولی ارتکاز ایک ہی شخصیت کے پاس آ گیا ہے۔ شکایت میں سب سے سنگین الزام ڈاکٹر عاصم عمر پر اپنے بھائی کامران عمر کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے ملازمت دلوانے کا عائد کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر اس سلیکشن کمیٹی کے کنوینر تھے جس نے اسسٹنٹ (BPS-16) کے عہدے کے لیے بھرتی کا عمل مکمل کیا اور اسی کمیٹی نے ان کے بھائی کامران عمر کو منتخب کر لیا۔ حیران کن طور پر کامران عمر کا تعلیمی ریکارڈ انتہائی کمزور بتایا جاتا ہے جس میں میٹرک تھرڈ ڈویژن جبکہ بی ایس سی انجینئرنگ میں سی جی پی اے صرف 2.04 بتایا گیا ہے اور دوران تعلیم متعدد سمسٹروں میں وارننگ بھی جاری ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس اسامی کے لیے ستر سے زائد زیادہ اہل اور بہتر تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے امیدوار موجود تھے مگر اس کے باوجود کامران عمر کو منتخب کر لیا گیا جس پر تعلیمی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے ایک سرکاری حکم نامے میں بھی اس تقرری کو مشکوک قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے کنوینر کے طور پر ڈاکٹر عاصم عمر کے دستخط اس تقرری میں ممکنہ اقربا پروری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مزید برآں آڈٹ رپورٹ میں بھی اس بھرتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے باضابطہ آڈٹ پیرا درج کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متنازع تقرری کے باوجود کامران عمر اب اسسٹنٹ رجسٹرار (BPS-17) کے عہدے پر ترقی کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں جس سے یونیورسٹی کے اندر مزید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ شکایت میں ڈاکٹر عاصم عمر کی اپنی ترقیوں کو بھی متنازع قرار دیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز University of Engineering and Technology Lahore میں لیب اٹینڈنٹ (BPS-5) کے طور پر کیا اور بعد ازاں جونیئر ڈیمانسٹریٹر (BPS-16) کے عہدے تک پہنچے۔ الزام ہے کہ 2018 میں انہیں کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر (BPS-20) مقرر کیا گیا حالانکہ اس عہدے کے لیے مطلوبہ تجربہ پانچ سال تھا جبکہ ان کے پاس صرف چار سال کا متعلقہ تجربہ تھا۔ اسی طرح 2024 میں انہیں پروفیسر (BPS-21) مقرر کر دیا گیا حالانکہ مطلوبہ دس سالہ تجربے کے مقابلے میں ان کے پاس تقریباً آٹھ سال کا تجربہ بتایا جاتا ہے۔ حیران کن طور پر دونوں مواقع پر وہ واحد امیدوار تھے جن کا انٹرویو لیا گیا اور بعد ازاں انہیں باقاعدہ طور پر تعینات کر دیا گیا۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن کے حکم نامے میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بطور ڈیمانسٹریٹر یا ریسرچ ایسوسی ایٹ کام کرنے کا تجربہ کیمیکل انجینئرنگ کے لیے درکار تدریسی یا تحقیقی تجربے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود ان کی تقرریاں عمل میں آنا یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ شکایت میں یونیورسٹی کے مالی معاملات میں بھی سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر ایم کامران کو تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 51 لاکھ روپے سے زائد اضافی ادائیگی کی گئی جسے قومی خزانے کے لیے نقصان قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح پیٹرول، آئل اور لبریکینٹس کے فنڈز کے استعمال میں بھی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جہاں یونیورسٹی گاڑی کے بجائے کامران عمر کے نام پیٹرول چٹس جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ مزید برآں رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کے حق میں تقریباً آٹھ لاکھ چون ہزار روپے کی مشکوک ادائیگی کا بھی ذکر آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ آڈٹ حکام کے مطابق 2017 سے ستمبر 2024 تک یونیورسٹی کے مالی و انتظامی معاملات کے جائزے کے دوران متعدد آڈٹ پیراز سامنے آئے ہیں جن میں عمر برادران کے کردار اور ان سے متعلق فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ وائس چانسلر کی مبینہ سرپرستی میں عمر برادران نے یونیورسٹی کے انتظامی امور پر غیر معمولی اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے اور ادارے کے وسائل کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے جامعہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن حکام کامران عمر، عمران عمر اور ڈاکٹر عاصم عمر کی تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کریں، سلیکشن کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کی رپورٹس کی چھان بین کریں، 2017 سے 2024 تک ہونے والی سنڈیکیٹ میٹنگز کے منٹس کا جائزہ لیں اور آڈٹ رپورٹ سمیت محکمہ ہائر ایجوکیشن کے احکامات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنگین مثال بن سکتا ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میرٹ کی پامالی ملک کے تعلیمی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب اورہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اس معاملے پر کیا کارروائی کرتے ہیں اور کیا ملتان کی اس اہم انجینئرنگ یونیورسٹی میں شفافیت اور میرٹ کا نظام بحال ہو سکے گا یا نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں