یو ای ٹی ملتان: غیر قانونی رجسٹرار عاصم عمر انکوائری میں ایچ ای ڈی کو مطمئن کرنے میں ناکام

ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان مبینہ ’’اندرونی گٹھ جوڑ‘‘ کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے جہاں پر تعینات غیر قانونی رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کی غیر قانونی تعیناتی اورغیر قانونی پروموشن کے باوجود نہ صرف عہدے پر قابض ہیں بلکہ یونیورسٹی کے معاملات و خزانے کے ساتھ کھلم کھلا کھیل رہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری فرخ نوید کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقررہ معیار پر پورا اترنے کے حوالے سے متعلقہ حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر (BS-20) کے لیے 10 سال اور پروفیسر (BS-21) کے لیے 15 سال تدریسی یا تحقیقی تجربہ لازمی تھا، تاہم ان کا تجربہ اسی صورت میں مکمل تصور کیا جا سکتا تھا اگر ان کی بطور جونیئر ڈیمانسٹریٹر الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ UET لاہور میں خدمات یا بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کام کو مجموعی تجربے میں شمار کیا جاتا۔ تاہم ماہرین کے مطابق کیمیکل انجینئرنگ کے متعلقہ شعبے میں تجربہ درکار تھا جبکہ ان کا الیکٹریکل انجینئرنگ میں بطور ڈیمانسٹریٹر تجربہ غیر متعلقہ قرار دیا گیا۔ مزید برآں انہوں نے اپنے تجربے کی مطابقت کے حوالے سے متعلقہ اتھارٹی سے کوئی مستند سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا۔ اسی طرح بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کسی باقاعدہ تقرری کا لیٹر بھی فراہم نہ کیا جا سکا جس کے باعث ان کا تدریسی اور تحقیقی تجربہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے 14 سال سے ایڈیشنل چارج پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی معاونت سے تعینات یونیورسٹی کے بااثر غیر قانونی و غیر قانونی پروفیسر رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر نے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد کو بھی اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں لے لیا ہے۔ تعلیمی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آخر ہر آنے والا وائس چانسلر کیوں اسی’’سسٹم‘‘ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر کی ایک مخصوص حکمتِ عملی ہے جس کے تحت وہ ہر نئے وائس چانسلر کے سامنے اپنی نام نہاد معصومیت ظاہر کرنے کے لیے ابتدا میں ہی اپنا استعفیٰ پیش کر دیتے ہیں۔ تاہم یہ استعفیٰ محض ایک’’ڈرامائی حربہ‘‘قرار دیا جا رہا ہےکیونکہ اس کے فوراً بعد ہمدردی سمیٹتے ہوئے وہ دوبارہ ایڈیشنل چارج کی سمری حکومتِ پنجاب کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے بھجوا دیتے ہیں اور یوں ایک بار پھر اسی عہدے پر برقرار رہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 14 سالوں سے یونیورسٹی میں مستقل رجسٹرار کی تعیناتی نہ ہونا ایک غیر معمولی اور تشویشناک امر ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران متعدد وائس چانسلرز تبدیل ہوئےمگر ڈاکٹر عاصم عمر بدستور ’’عارضی‘‘حیثیت میں مستقل طاقت کے مرکز بنے رہے۔ ذرائع کے مطابق یہ صورتحال محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا حصہ ہے جس کے ذریعے ادارے پر گرفت برقرار رکھی گئی۔ مزید الزامات کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر مبینہ طور پر وائس چانسلرز کو مالی فوائد فراہم کر کے انہیں اپنے زیر اثر رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں یونیورسٹی میں میرٹ کا نظام شدید متاثر ہوا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی اثر و رسوخ کے باعث غیر قانونی تقرریوں اور تیز رفتار ترقیوں کا ایک سلسلہ قائم ہوا جس نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا یونیورسٹی میں مالی بدانتظامی اور سیکیورٹی کی کمزوریوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر کے دور میں متعدد چوریوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کی بجلی کی تاریں چوری ہوئیں جبکہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی کئی وارداتیں ہو چکی ہیں جنہیں مبینہ طور پر منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دستاویزی ریکارڈ میں سامنے آنے والے انکشافات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مستقل رجسٹرار تعینات کیا جائے اور تمام غیر قانونی اقدامات کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف ادارے کی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی بلکہ اعلیٰ تعلیم کا پورا نظام بھی متاثر ہوگا۔ یہ تمام حقائق ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا قانون اور میرٹ صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہ گئے ہیں، یا واقعی ان کا اطلاق بااثر افراد پر بھی ہوگا؟ فی الحالمحمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں شفافیت اور انصاف کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب پر الزام ہے کہ اس نے معاملہ مسلسل وزیراعلیٰ پنجاب سے چھپائے رکھا اور ہر تین ماہ بعد سمری منظوری کے لیے پیش کی جاتی رہی۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ایڈیشنل چارج کو 6 ماہ سے بڑھا کر 14 سال تک جاری رکھا گیا۔ 14 سال کے عرصے میں مستقل رجسٹرار کی تعیناتی نہ ہونا ایک غیر معمولی اور مشکوک صورتحال ہے۔ یونیورسٹی میں متعدد وائس چانسلرز کی تبدیلی کے باوجود رجسٹرار کا عہدہ ایک ہی شخصیت کے پاس رہا۔ 2012 سے لے کر اب تک مبینہ طور پر غیر قانونی تقرریوں اور غیر معمولی ترقیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اسسٹنٹ پروفیسرز کو تیزی سے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر بنانا میرٹ کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے یونیورسٹی میں مالی بدانتظامی اور چوریوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں لاکھوں روپے کی بجلی کی تاریں شامل ہیں۔ ماہرین تعلیم اس صورتحال کو’’ادارہ جاتی بدعنوانی‘‘اور سسٹم کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔شفاف تحقیقات، مستقل تقرریوں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان اس وقت ایک سنگین امتحان سے گزر رہی ہے جہاں قانون، میرٹ اور شفافیت داؤ پر لگ چکے ہیں اور فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو ادارے کا مستقبل مزید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس بارے میںیونیورسٹی کے 3 ماہ پہلےکے وائس چانسلر نے بھی سابقہ 8 وائس چانسلرز کی طرح جواب دیا کہ یہ کیس میرٹ کے مطابق لیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں